طورخم بارڈر پر پاکستانی سکول کے افغان طلبہ کا مستقبل کیا ہوگا؟

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے رہائشی عبدالرازق نے سکول کی بنیاد 2007 میں رکھی تھی اور ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ طورخم میں رہنے والے بچوں کے لیے ایک میعاری تعلیمی ادارہ  بنا سکیں کیونکہ طورخم سے بہت کم بچے لنڈی کوتل کے سکولوں میں جاتے تھے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان  طورخم بارڈر کے احاطے میں واقع ایک نجی سکول افغان طلبہ کے لیے میعاری تعلیم کے حصول کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں لیکن سکول میں پڑھنے والے  تقریباً 300 کے قریب   افغان طلبہ کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے کیونکہ بارڈر بند ہونے کی وجہ سے وہ بارڈر کراس کر کے سکول نہیں آسکتے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے رہائشی عبدالرازق نے سکول کی بنیاد 2007 میں رکھی تھی اور ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ طورخم میں رہنے والے بچوں کے لیے ایک میعاری تعلیمی ادارہ  بنا سکیں کیونکہ طورخم سے بہت کم بچے لنڈی کوتل کے سکولوں میں جاتے تھے۔

طورخم سے لنڈی کوتل جانے کے لیے مناسب پبلک ٹرانسپورٹ بھی موجود نہیں ہے۔ عبدالرازق نے بتایا کہ ’جب ہم نے سکول کی بنیاد رکھی تو اس وقت  تقریبا700 افغان طلبہ نے بھی داخلہ لیا اور وہ روزانہ پیدل طورخم بارڈر کراس کر کے سکول آتے تھے اور دوپہر کو واپس اپنے گھروں کو جاتے تھے۔‘

عبدالرازق نے بتایا: ’ افغان بچے جو یہاں پڑھتے تھے ان کو پہلا مسئلہ 2017 میں اس وقت پیش آیا جب حکومت پاکستان نے بارڈر پر باڑ لگانے کے کام شروع کیا ۔ باڑ لگانے کا کام شروع ہونے کے بعد ان طلبہ کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت نہیں ملتی تھی اور اس وقت بہت سے طلبہ کا تعلیمی سال بھی ضائع ہوتا تھا۔‘

عبدالرازق نے بتایا کہ بارڈر مینیجمنٹ کی جانب سے ان طلبہ ایک خصوصی کمپیوٹرائزڈ پاس جاری کیا گیا ہے اور ان طلبہ کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت مل گئی۔ یہ طلبہ بارڈر پر آتے تھے، ان کا کارڈ کمپیوٹر پر سکین کیا جاتا تھا اور وہ آسانی سے سکول آسکتے تھے اور یہ سلسلہ جاری رہا۔

تاہم عبدالرازق کے مطابق 2020 میں جب کورونا کی وبا آگئی  تو بارڈر کو دوبارہ بند کرنا  پڑا اور ان  طلبہ کی  مشکلات پھر سے  شروع ہوگئیں  کیونکہ ان کو دوبارہ  سے بارڈر کراس کرنے کی اجازت نہیں ملتی تھی اور اب تقریبا آٹھ مہینے ہوگئے کہ یہ طلبہ سکول نہیں آئے ہیں۔

انھوں نے بتایا ،’ نہم او دہم کلاس کے طلبہ سے بورڈ کے امتحانات بھی مس ہوگئے اور ان کے رول نمبر سلپس ابھی تک سکول میں پڑھے ہے۔‘

عبدالرازق نے اپنی طرف سے پھرپور کوشش کی کہ ان طلبہ کو بارڈر کراس کرنے کی اجازت مل جائے  لیکن وہ بے سود ثابت ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ میں ضلعی انتظامیہ اور بارڈر پر موجود حکام اس سلسلے میں  کئی مرتبہ بات کی لیکن ان کا کہنا کہ یہ فیصلہ اعلیٰ سطح پر حکام کریں گے، اس لیے وہ بچوں کو بارڈر کرا س کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عبدالرازق نے بتایا کہ  میں ان طلبہ کے لیے پریشان اس لیے ہیں  کہ وہ وہاں افغانستان میں بھی سکول نہیں جا سکتے اور یہاں بھی یہی صورتحال ہے کہ وہ بارڈر کراس نہیں کر سکتے۔ ’ ان طلبہ میں زیادہ تر کا تعلق طورخم بارڈر سے متصل صوبہ جلال آباد سے اور ان بچوں کے والدین بھی روزانہ رابطہ کرتا ہوں  تاکہ ان بچوں کی مستقبل کے لیے کچھ کیا جائے۔‘

یہ بچے طورخم تعلیم کے لیے کیوں آتے ہیں؟

اس سوال کے جواب مین عبدالراز ق نے بتایا کہ افغانستان میں پاکستان کے مقابلے میں تعلیم کا معیار اتنا اچھا نہیں ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ زیادہ تر کیسز مین جب یہ طلبہ پانچویں اور چھٹے جماعت میں داخلہ کے لیے یہاں آتے ہیں تو ان کو بنیادی تعلیم یعنی اے ۔ بی ۔سی کا بھی پتہ نہیں ہوتا۔

انھوں نے بتایا: ’ ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ افغانستان میں سکولوں مین تقریباً 16 مضامین پڑھائے جاتے ہیں لیکن یہاں یہ طلبہ صرف سات مضامیں پڑھتے ہیں اور یہ ان کے لیے آسان ہوتے ہیں۔‘

عبدالرازق نے بتایا کہ یہ سکول پاکستان اور افغانستان کی دوستی کی ایک زندہ  مثال بھی ہے کیونکہ یہاں جو افغان طلبہ آتے ہے ان کو ہم نے کبھی بھی یہ احساس نہیں دلایا ہے کہ وہ افغان ہیں  اور نہ کبھی سکول کے طلبہ میں کوئی  امتیاز کیا ہے بلکہ یہ سارے کلاس میں بیٹھتے  ہیں اور بلا تفریق تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس