قطر اور سعودی عرب نے عراقی کردستان میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے پر حملے کی منگل کو شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ سفارتی عمارتوں کو بار بار نشانہ بنانا واضح طور پر متعلقہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جن میں چوتھا جنیوا کنونشن 1949 بھی شامل ہے۔
#Statement | The Foreign Ministry expresses the Kingdom of Saudi Arabia’s condemnation in the strongest terms of the targeting of the Consulate General of the United Arab Emirates in Iraqi Kurdistan. pic.twitter.com/BRMBXh
— Foreign Ministry (@KSAmofaEN) March 10, 2026
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سفارتی مشنز کی عمارتوں کے تقدس اور ان کے تحفظ کا احترام کیا جانا نہایت ضروری ہے۔
وزارتِ خارجہ نے اس موقع پر برادر ملک متحدہ عرب امارات کے ساتھ مملکتِ سعودی عرب کی یکجہتی کا بھی اظہار کیا۔
دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے منگل کو سوشل میڈیا پلٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ عراقی کردستان میں متحدہ عرب امارات کے قونصل خانے کو نشانہ بنانے کا واقعہ ناقابلِ قبول ہے اور یہ سفارتی مشنز اور ان کے دفاتر کے تحفظ سے متعلق تمام بین الاقوامی ضابطوں اور معاہدوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔
Statement | Qatar Strongly Condemns Attack Targeting UAE Consulate-General in Iraqi Kurdistan
Doha | March 10 2026
The State of Qatar expresses its strong condemnation and denunciation of an attack that targeted the UAE’s Consulate General in Iraqi Kurdistan, deeming it a… pic.twitter.com/OSAvGrQjzZ
— Ministry of Foreign Affairs - Qatar (@MofaQatar_EN) March 10, 2026
قطری وزارت خارجہ نے بیان میں مزید کہا کہ سفارتی مشنز اور ان کے دفاتر کو نشانہ بنانا ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کی بھی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ ایک خطرناک کشیدگی کو جنم دیتا ہے جو سفارتی عملے کی سلامتی اور تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سفارتی مشنز اور ان کے دفاتر پر حملے سفارتی کام سے متعلق عالمی طور پر تسلیم شدہ اصولوں کو کمزور کرتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ قطر ہر قسم کے تشدد اور دہشت گردی کے ان اقدامات کو مسترد کرتا ہے جو سفارتی مشنز کو نشانہ بناتے ہیں یا امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
قطر کی وزارتِ خارجہ نے اس موقع پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قطر عراق اور خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے۔
قبل ازیں منگل کو متحدہ عرب امارت کی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر عراق کے کردستان علاقے میں اماراتی قونصل خانے پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’دہشت گردی کی کارروائی‘ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اماراتی وزارتِ خارجہ کے مطابق نامعلوم عناصر کی جانب سے کیے گئے اس بلااشتعال دہشت گرد ڈرون حملے میں قونصل خانے کی عمارت کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سفارتی مشنز اور عمارتوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے تحت سفارتی عمارتوں کے تقدس اور سفارتی عملے کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطرناک کشیدگی کو جنم دیتی ہیں اور خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے عراق کی وفاقی حکومت اور حکومتِ کردستان ریجن عراق سے مطالبہ کیا ہے کہ حملے کے حالات کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کی جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی اس نوعیت کی کارروائیوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق سفارتی مشنز، ان کی عمارتوں اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔