جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے جمعے کو سابق صدر یون سک یول کو شمالی کوریا پر فوجی ڈرون اڑانے کا حکم دینے میں ان کے کردار پر 30 سال قید کی سزا سنا دی۔
سیؤل سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے یون سک یول کو دشمن کی مدد کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مجرم قرار دیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ انہوں نے آغاز سے ہی پیانگ یانگ کے خلاف ڈرون آپریشن شروع کرنے کی سازش کی۔
پراسیکیوٹرز نے اپریل میں 30 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ اس دراندازی کا مقصد ان کے مارشل لا کے ناکام اعلان کے لیے ایک بہانہ بنانا تھا، جس نے 2024 کے آخر میں ایشیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت کو دہائیوں کے بدترین سیاسی بحران میں دھکیل دیا تھا۔
شمالی کوریا نے سیؤل پر الزام لگایا تھا کہ اس نے اکتوبر 2024 میں پروپیگنڈے پر مشتمل پرچیاں گرانے کے لیے پیانگ یانگ پر تین بار ڈرون اڑائے۔
جنوبی کوریا کے اُس وقت کے وزیر دفاع کم یونگ ہیون نے ایک مبہم تردید جاری کی تھی، جس کے بعد ان کی وزارت نے کہا تھا کہ وہ ان الزامات کی نہ تو تصدیق کر سکتی ہے اور نہ ہی تردید۔ کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا، لیکن اس کی وجہ سے کوئی فوجی جھڑپ نہیں ہوئی۔
کم یونگ ہیون کو بھی یون سک یول کے ساتھ مجرم قرار دیتے ہوئے اسی طرح کی سزا سنائی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جنوبی کوریا کے سابق چوٹی کے پراسیکیوٹر یون سک یول نے مقدمے کی سماعت کے دوران مسلسل کسی بھی غلط کام سے انکار کیا۔ ان کے وکلا نے دلیل دی کہ انہوں نے نہ تو اس آپریشن کا حکم دیا اور نہ ہی اس کی منظوری دی اور یہ دعویٰ کیا کہ یہ شمالی کوریا کی اشتعال انگیزیوں، خاص طور پر سرحد پار سے کچرے سے بھرے غبارے چھوڑنے کا ایک جائز ردعمل تھا۔
انہوں نے دلیل دی کہ مجرم قرار دینے کا فیصلہ جنوبی کوریا کے سکیورٹی مفادات کو نقصان پہنچائے گا، لیکن انہوں نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے یا نہیں۔
یون سک یول کو اس سے قبل فروری میں مارشل لا لگانے کی کوشش سے جڑی بغاوت کی قیادت کرنے پر مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
انہیں گذشتہ سال اس وقت عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جب آئینی عدالت نے پارلیمنٹ کی جانب سے ان کے مواخذے کی توثیق کر دی تھی، جس کے نتیجے میں قبل از وقت صدارتی انتخابات ہوئے جن میں لبرل رہنما لی جے میونگ نے کامیابی حاصل کی۔
پہلے سے حراست میں موجود، مشکلات میں گھرے سابق رہنما کو نچلی عدالت کے جمعے کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے اور وہ اپنے خلاف سنائے گئے پچھلے فیصلوں کے خلاف پہلے ہی اپیل کر چکے ہیں۔
© The Independent