کشمیر انتخابات: پہلے مرحلے میں 13 نشستوں پر پولنگ مکمل، گنتی جاری

پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور ایک گھنٹے کی توسیع کے بعد شام 6 بجے میرپور ڈویژن کے تینوں اضلاع یعنی بھمبر، میرپور اور کوٹلی میں اختتام پذیر ہوئی۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیر کو میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں پر پولنگ کا عمل اختتام پذیر ہو گیا۔

پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور ایک گھنٹے کی توسیع کے بعد شام 6 بجے میرپور ڈویژن کے تینوں اضلاع یعنی بھمبر، میرپور اور کوٹلی میں اختتام پذیر ہوئی۔

دن کے آغاز میں کوٹلی ضلع میں پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

ایکس پر جاری بیان میں پیپلز پارٹی نے الزام لگایا کہ ان کا پارٹی کارکن مختار یونس مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار عمیر نعیم کی جانب سے اسلحہ کی نمائش اور عوامی ہراسانی کے واقعات کے دوران جان سے گئے۔‘

اس دوران کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے اور اس نے مارچ کی کال بھی دے رکھی تھی۔

راولاکوٹ میں کالعدم تنظیم کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار زخمی: حکام

مقامی پولیس نے کہا ہے کہ میرپور ڈویژن میں عام انتخابات کے کامیاب اور پرامن انعقاد کے بعد کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی میں شدید بوکھلاہٹ ہے جس کے کچھ جتھوں نے پیر کو راولاکوٹ میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔

ترجمان ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ریجن پونچھ راولاکوٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ منتشر ہونے کی اپیلوں کے باوجود احتجاجی کارکنوں نے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنے کی کوشش کی اور ریاستی رِٹ کو چیلنج کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مقامی پولیس کے دو اہلکار زخمی ہو گئے۔

بیان کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض عناصر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر بے بنیاد پراپیگنڈہ اور اشتعال انگیز بیانات پھیلا رہے ہیں، جس کا مقصد عوامی جذبات کو بھڑکانا اور قانون شکنی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کشمیر میں انتخابات کو مرحلہ وار کروانے کا اعلان کیا تھا اور ان کا آغاز میر پور ڈویژن سے ہوا ہے جہاں آج (پیر کو) عام تعطیل تھی۔ 

ترمیم شدہ شیڈول کے مطابق مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر ووٹنگ 2 اگست کو کرائی جائے گی جبکہ پونچھ ڈویژن میں پولنگ 10 اگست کو ہو گی۔

حالیہ ہفتوں میں خطے کی سکیورٹی صورت حال اور سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ نئے شیڈول کا مقصد انتخابی عمل کو محفوظ، منظم اور پرامن ماحول میں مکمل کرنا ہے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ دنوں میں مقامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پناہ گزینوں کی نشستوں اور دیگر مطالبات پر حکومت کے ساتھ شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

عوام حق رائے دہی کے استعمال کے لیے باہر نکلیں

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے پیر کو کی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میرپور ڈویژن کے عوام سے اپیل ہے کہ وہ اپنے حقِ رائے دہی کے استعمال کے لیے باہر نکلیں اور  اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کرکے حکومت سازی میں اہم کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ’الیکشن ہی وہ موقع ہے جب عوام ووٹ ڈال کر اپنی مرضی کے نمائندے منتخب کر سکتے ہیں۔

’عوام اپنے ووٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کریں اور ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔‘

جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل ووٹرز کے پولنگ سٹیشنز تک آنے جانے کے لیے سکیورٹی کے مؤثر انتظامات موجود ہیں۔ ’عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور بروقت اپنا ووٹ کاسٹ کریں، جو ان کا مذہبی اور قانونی فریضہ ہے۔‘

منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری انتظامات

میرپور کے ڈپٹی کمشنر ساجد اسلم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انتخابات کے پہلے مرحلے کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر کے مجموعی حالات معمول کے مطابق ہیں۔ ’میڈیا سمیت صحافیوں کو تمام پولنگ سٹیشنوں تک رسائی فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ انتخابی عمل کی آزادانہ کوریج کر سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ’بعض شرپسند عناصر سوشل میڈیا پر جعلی ویڈیوز اور گمراہ کن مواد پھیلا کر عوام کو غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے چیف سیکریٹری خوشحال خان اور سیکریٹری الیکشن کمیشن راجہ محمد شکیل خان نے اتوار کو مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے 17 ہزار کے قریب سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جن میں چاروں صوبوں کے پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

راجہ محمد شکیل خان نے مزید بتایا کہ ووٹنگ کے لیے انتخابی عملے کے 22 ہزار ارکان کو تعینات کیا گیا ہے۔

دوسری جانب کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بھی ایک بار پھر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا تھا کہ 26 جولائی کو میرپور ڈویژن سے لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔

ان کے مطابق ’مختلف علاقوں سے آنے والے قافلے راولاکوٹ پہنچ کر وہاں جاری دھرنے میں شامل ہوں گے، جبکہ 27 جولائی کو نمازِ ظہر کے بعد تمام قافلے مظفرآباد کی جانب روانہ ہوں گے۔‘

اس بارے میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام نے اتوار کو انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار رمنا سعید کو بتایا تھا کہ انتظامیہ نے پیشگی کارروائیاں کی ہیں، اسی لیے توقع ہے کہ احتجاج میں لوگوں کی تعداد محدود رہے گی۔

ڈپٹی کمشنر میرپور ساجد اسلم کا کہنا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے لوگوں کو ووٹ نہ ڈالنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جس کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ میں دو سے پانچ فیصد تک کمی آ سکتی ہے، تاہم کسی بڑے اثر کی توقع نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان