حکومت پاکستان نے اتوار کو جموں و کشمیر تنازعے کے تناظر میں انڈین وزیر دفاع راج ناتھ کے بیان کو انتہائی اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے کر اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈین وزیر دفاع کا بیان نہ صرف اقوام متحدہ اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جموں و کشمیر تنازعے کے حوالے سے حقائق کو مسخ کرتا ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، بلکہ یہ علاقائی اور بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے کی انڈین حکومت کی دانستہ پالیسی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔‘
پاکستان کا یہ ردعمل انڈین وزیر دفاع کے اس بیان کے جواب میں سامنے آیا، جس میں انہوں نے اتوار کو کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت صرف ’پاکستان کے زیر انتظام کشمیر‘ پر ہو گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انڈین حکومت نے مسلح افواج کو خطرات کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے کھلی چھوٹ دے دی ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کوئی بھی دشمن انڈیا کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کرے گا۔
India’s continued attempts to rewrite internationally recognised legal realities through coercive rhetoric cannot alter the facts. Pakistan categorically rejects the irresponsible remarks made by the Indian Defence Minister. Such statements reflect a continued attempt to distort…
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) July 26, 2026
پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کے اشارے انڈیا کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر پر مسلسل قبضے، پورے خطے میں دہشت گردی کی سرپرستی اور ساتھ ہی اس کے اندرونی عدم استحکام سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہیں۔‘
ترجمان کے مطابق: ’جارحیت اور جنگ پسندی کی اپنی بے جا بیان بازی کا سہارا لیتے ہوئے، انڈیا کو کسی بھی انڈین مہم جوئی کو ناکام بنانے کے لیے پاکستان کے عوام اور حکومت کے غیر متزلزل عزم اور ارادے کو کم نہیں سمجھنا چاہیے، جس کا مظاہرہ گذشتہ سال آپریشن بنیان المرصوص کے دوران پوری پاکستانی قوم اور اس کی بہادر مسلح افواج نے کیا تھا۔‘
ترجمان نے عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ انڈیا کے مسلسل سرکش رویے کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان متعلقہ قراردادوں کی پاسداری میں ناکامی پر اس کا احتساب کرے جو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی ضمانت دیتی ہیں۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ جابرانہ بیان بازی کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو بدلنے کی انڈیا کی مسلسل کوششیں حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا: ’پاکستان انڈین وزیر دفاع کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتا ہے۔ اس طرح کے بیانات سیاسی بیان بازی اور جابرانہ رویے کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حقائق کو مسخ کرنے کی مسلسل کوشش کی عکاسی کرتے ہیں۔
’یہ نہ تو انڈیا کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرتے ہیں اور نہ ہی علاقائی امن، استحکام یا بامقصد بات چیت میں کوئی کردار ادا کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک متنازع علاقہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی آزادانہ مرضی کے مطابق کیا جانا ہے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو بدنام کرنے کی انڈیا کی بار بار کی کوششیں اس کی ’ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے اپنے مستند ریکارڈ‘ کی روشنی میں کوئی اعتبار نہیں رکھتیں۔
انہوں نے کہا کہ درحقیقت، انڈیا جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست اور عدم استحکام پیدا کرنے والا ملک ہے، جس نے اپنے جارحانہ توسیع پسندانہ عزائم کی خاطر خطے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔