وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اتوار کو کہا کہ انڈیا سے منسلک ایک ڈیجیٹل فیک نیوز نیٹ ورک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ احتجاجی تحریک میں ملوث ہے۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل سکیورٹی اداروں نے ایک شخص کو گرفتار کیا اور تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اس شخص کی ڈیجیٹل سروسز انڈیا سے منسلک تھیں جبکہ سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف مواد کو فروغ دینے کے لیے ادائیگیاں بھی انڈیا سے کی جا رہی تھیں۔
وفاقی حکومت کے وزیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب پیر سے کشمیر میں مرحلہ وار الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 27 جولائی کو میرپور کے 13 حلقوں میں الیکشن ہوں گے، جس کے بعد مظفرآباد ڈویژن اور پاکستان میں مقیم پناہ گزینوں کی 12 نشستوں پر ووٹنگ دو اگست کو کرائی جائے گی۔
پونچھ ڈویژن میں پولنگ 10 اگست کو ہوگی۔
الیکشن سے ایک روز قبل ہی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دی ہے۔
کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ 26 جولائی کو میرپور ڈویژن سے لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔
کشمیر میں حکام گذشتہ کئی ہفتوں سے ان احتجاجی مظاہروں سے نمٹ رہے ہیں جو انڈین زیر انتظام کشمیر سے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے معاملے پر کیے جا رہے ہیں۔
احتجاج کرنے والی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) ابتدا میں بجلی کی قیمتوں، طرز حکمرانی اور معاشی حقوق جیسے معاملات پر آواز اٹھانے کے لیے سامنے آئی تھی۔
تاہم حالیہ عرصے میں اس کی توجہ مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر مرکوز ہے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں کشمیر میں حکومت سازی کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
کشمیر حکومت نے گذشتہ ماہ جے اے اے سی پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی تھی کہ یہ تنظیم پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ تاہم جے اے اے سی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
عطا تارڑ نے اتوار کی پریس کانفرنس میں مزید بتایا کہ تحقیقات کے دوران حکام کو تمام متعلقہ معلومات تک رسائی حاصل ہوئی اور یہ بات سامنے آئی کہ ایک مکمل غلط معلومات کا نیٹ ورک انڈیا سے جڑے بوٹ فارمز کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان، اس کی خودمختاری، حکومت، فوج، آرمی چیف اور ریاستی اداروں کے خلاف مواد کو آن لائن ’بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا۔‘
عطا تارڑ کے بقول گرفتار شخص نے دوران تفتیش بتایا کہ اسے موصول ہونے والے زیادہ تر مواد کا تعلق کشمیر کی کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کالعدم تنظیم کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے اور پاکستان کے ساتھ کشمیر کے تعلق کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
وزیر نے مزید کہا تنظیم کا کشمیر کاز یا کشمیری عوام کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں اور سوال اٹھایا کہ اگر وہ اپنے مقاصد میں مخلص ہیں تو انتخابات میں حصہ کیوں نہیں لیتے۔
عطا تارڑ نے یہ بھی کہا کہ اس گروہ نے پرتشدد مظاہروں کے دوران کشمیری پولیس اہلکاروں کو جان سے مارا گیا اور یہ گروہ تشدد کی سیاست کر رہا ہے جس سے کشمیر میں امن و امان کی صورت حال پیدا ہوئی۔
وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس ان سرگرمیوں کے انڈیا سے تعلق کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ اس گروہ نے ہتھیاروں اور طاقت کے استعمال سے ایک تحریک شروع کرنے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق، ان سرگرمیوں کا مقصد کشمیر میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا تاکہ کشمیری عوام کو نقصان پہنچے اور پاکستان کے ساتھ ان کے تعلق کو کمزور کیا جا سکے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ کشمیری عوام نے تشدد کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان اور کشمیر کا تعلق نہ توڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی کمزور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’دشمن‘ کی فنڈنگ سے پاکستان، فوج اور ملکی قیادت کے خلاف نفرت پر مبنی غلط معلومات کی مہم چلائی گئی۔
تارڑ نے کہا کہ تخریبی عناصر کی انڈین فنڈنگ کے شواہد سب کے سامنے ہیں اور کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عناصر پوری قوم کے سامنے جواب دہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا جنگ میں انڈیا کے خلاف پاکستان کی کامیابی کو تسلیم کرتی ہے، اور فوجی میدان میں کامیابی کے بعد پاکستان نے سفارتی محاذ پر بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا اور دعویٰ کیا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور انڈیا کے درمیان گٹھ جوڑ ثابت ہو چکا ہے۔
تارڑ کے مطابق، اس پروپیگنڈا مہم کو تقویت دینے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے پرانی ویڈیوز کو کشمیر سے جوڑا گیا۔