طارق فضل چوہدری نے پیر کو کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 35 مطالبات میں سے 32 پر عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ تین مطالبات ابھی زیر التوا ہیں جن میں سے ایک معاملہ 12 نشستوں سے متعلق ہے۔
وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفیکیشن میں تنظیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے ’ملک میں امن و امان اور اس کی سلامتی کے لیے خطرہ‘ قرار دیا ہے۔