احتجاج کی کال سے ووٹر ٹرن آؤٹ پر ’معمولی‘ اثر پڑ سکتا ہے: میرپور انتظامیہ

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے پیشگی کارروائیاں کی ہیں، اسی لیے توقع ہے کہ احتجاج میں لوگوں کی تعداد محدود رہے گی۔

مظفر آباد میں 8 جون 2026 کو ممکنہ احتجاج کی کال کے پیش نظر سکیورٹی اہلکار علاقے میں گشت کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں میرپور ڈویژن کے انتخابات سے قبل احتجاجی کال کے باوجود ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک صورت حال معمول کے مطابق ہے، تاہم ووٹر ٹرن آؤٹ پر ’معمولی اثر‘ پڑ سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کشمیر میں انتخابات کو مرحلہ وار کروانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ انتخابات کے پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میر پور ڈویژن میں ووٹنگ ہونے جا رہی ہے جس کے لیے حکام کے مطابق تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

میرپور ڈویژن کے مجموعی طور پر 13 حلقوں میں ووٹنگ ہو گی۔

لیکن انتخابی عمل شروع ہونے سے ایک روز قبل ہی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے بھی ایک بار پھر احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ 26 جولائی کو میرپور ڈویژن سے لانگ مارچ کا آغاز کیا جائے گا۔

ان کے مطابق ’مختلف علاقوں سے آنے والے قافلے راولاکوٹ پہنچ کر وہاں جاری دھرنے میں شامل ہوں گے، جبکہ 27 جولائی کو نمازِ ظہر کے بعد تمام قافلے مظفرآباد کی جانب روانہ ہوں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام سے صورت حال جاننے کے لیے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے پیشگی کارروائیاں کی ہیں، اسی لیے توقع ہے کہ احتجاج میں لوگوں کی تعداد محدود رہے گی۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے احتجاجی مارچ کی چند ویڈیوز اور تصاویر بھی سوشل میڈیا پر جاری کی ہیں جنہیں حکام نے ’پرانی اور جعلی‘ قرار دیا ہے۔

 ڈپٹی کمشنر میرپور ساجد اسلم نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی ’متعدد ویڈیوز پرانی اور جعلی ہیں جنہیں غلط معلومات پھیلانے‘ کے لیے شیئر کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے لوگوں کو ووٹ نہ ڈالنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، جس کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ میں دو سے پانچ فیصد تک کمی آ سکتی ہے، تاہم کسی بڑے اثر کی توقع نہیں۔

ادھر ڈپٹی کمشنر مظفرآباد منیر قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولنگ کے لیے انتخابی سامان تقسیم کیا جا رہا ہے اور تمام انتظامات مکمل کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ احتجاجی کال کا ووٹر ٹرن آؤٹ پر کوئی نمایاں اثر پڑنے کی توقع نہیں کیونکہ ’جو لوگ ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں، وہ ضرور ووٹ ڈالیں گے۔‘

منیر قریشی کے مطابق اتوار ہونے کے باعث بازار اور دکانیں بند ہیں اور اس کا احتجاج سے تعلق نہیں۔

دوسری جانب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکریٹری جنرل کو ایک خط لکھا ہے، جس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ واقعات کے تناظر میں انسانی حقوق اور انسانی صورت حال پر توجہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ 

خط میں کمیٹی نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران ’شہری اموات، گرفتاریاں، لاپتہ افراد، انٹرنیٹ و مواصلاتی پابندیاں، سکیورٹی کارروائیوں میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور بنیادی ضروریات تک رسائی میں مشکلات پیش آئیں‘۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان