’والد سے چھپ کر کرکٹ کھیلتا تھا‘: پاکستان ٹیم کا اچانک حصہ بننے والے رضا اللہ

ایجبسٹن میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں ڈیبیو کرنے والے رضا اللہ نے اپنی چوتھی ہی گیند پر جو روٹ کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا اور بعد میں اوپنر ایمیلیو گے کی وکٹ بھی حاصل کی۔

پاکستان کے رضا اللہ 9 ستمبر 2026 کو وسطی انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تیسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز بولنگ کرتے ہوئے (اے ایف پی)

اپنے پہلے ہی میچ میں انگلینڈ کے کپتان جو روٹ سمیت دو وکٹیں لے کر کرکٹ پنڈتوں کی توجہ حاصل کرنے والے پاکستان کے 21 سالہ فاسٹ بولر رضا اللہ کا کہنا ہے کہ وہ والد سے چھپ کر کرکٹ کھیلتے تھے۔

برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں ڈیبیو کرنے والے رضا اللہ نے اپنی چوتھی ہی گیند پر جو روٹ کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا اور بعد میں اوپنر ایمیلیو گے کی وکٹ بھی حاصل کی۔

رضا اللہ نے بعد میں سکائی سپورٹس کو بتایا کہ کرکٹ کے ابتدائی دنوں میں ان کے والد کو معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ کرکٹ کھیلتے ہیں جبکہ ان کی والدہ اور بھائی نے اس سفر میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

ان کے مطابق وہ والد سے چھپ کر کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔

اپنے اچانک ٹیسٹ ڈیبیو کے بارے میں رضا اللہ نے بتایا کہ ’وہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں سپیڈ گن ٹرائلز میں شریک تھے۔ ایک ہفتے بعد گھر جانے پر انہیں رات کے وقت فون آیا کہ فوراً این سی اے واپس آئیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس وقت انہیں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ وہ ٹیسٹ میچ کے لیے منتخب ہو چکے ہیں۔

رضا اللہ کے بقول: ’جب میں وہاں پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ مجھے ٹیسٹ میچ کے لیے جانا انگلینڈ ہوگا۔‘

رضا اللہ نے بتایا کہ ٹیسٹ کے پہلے روز سکرین پر اپنی رفتار 90 میل فی گھنٹہ دیکھ کر انہیں لگا کہ وہ 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کر رہے ہیں لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی رفتار 145 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنی بولنگ کی رفتار دیکھ کر انہیں بہت خوشی ہوئی۔

رضا اللہ نے بتایا کہ وہ پاکستان کے سابق فاسٹ بولر وقار یونس کو فالو کرتے ہیں اور ان کی طرح بننے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے بقول: ’میں پہلے سے وقار یونس کو دیکھ رہا ہوں اور انہیں فالو کرتا ہوں۔ کوشش کرتا ہوں ان کی طرح بنوں۔ میں انہیں آخر تک فالو کروں گا۔‘

اگرچہ ایجبسٹن ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستانی بالرز نے اچھی کاررکردگی دکھاتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں لیکن اسی روز پاکستان کی بیٹنگ کے لیے کچھ نہیں بدلا اور پوری ٹیم 133 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی جس کے بعد میزبان ٹیم نے دن کے اختتام تک 156 رنز بنا لیے۔

تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پہلے ہی دو صفر سے پیچھے پاکستان کی انگلینڈ کے دورے میں خراب بیٹنگ کا سلسلہ تیسرے ٹیسٹ میں بھی جاری رہا۔

لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ میں 194 رنز کی شکست کے بعد پاکستان نے ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے سات کھلاڑیوں کو باہر کیا جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور اسسٹنٹ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا تھا۔

برمنگھم میں پاکستان نے ٹیم میں چار تبدیلیاں کیں، جن میں تین کھلاڑیوں نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا، تاہم اس ردوبدل کا بیٹنگ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔

انگلینڈ کے کپتان جو روٹ نے ٹاس جیت کر ابر آلود موسم اور باؤلنگ کے لیے سازگار حالات میں پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ