رپبلکنز مڈٹرم انتخاب جیتے تو ہر امریکی کو 5 ہزار ڈالر ملیں گے، ٹرمپ کا وعدہ

امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ اس رقم کی ادائیگی کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا، تاہم اس منصوبے کی لاگت ایک کھرب ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 9 ستمبر 2026 کو ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں امریکن ایئرلائنز سینٹر میں رپبلکن نیشنل مڈٹرم کنونشن کے دوران اپنے خطاب کے اختتام پر اشارہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو وعدہ کیا ہے کہ اگر نومبر میں ان کی جماعت رپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر دیے جائیں گے۔

انہوں نے اس غیر معمولی دعوے کے ساتھ اپنے حامیوں سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ ’تصور کریں کہ میں بھی انتخابی بیلٹ پر موجود ہوں۔‘

ٹرمپ نے ڈیلاس میں رپبلکن پارٹی کے وسط مدتی انتخابی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’اگر رپبلکنز جیتتے ہیں تو آپ ہمارے ساتھ جیتیں گے اور آپ کو 5 ہزار ڈالر ملیں گے۔ اسے ٹرمپ ڈیویڈنڈ کہا جائے گا۔‘

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب رائے عامہ کے جائزوں میں رپبلکن پارٹی کو ڈیموکریٹس کے مقابلے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدر نے یہ نہیں بتایا کہ اس رقم کی ادائیگی کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا۔ نظریاتی طور پر اس منصوبے کی لاگت ایک کھرب ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ’ہمارا ملک بہت زیادہ پیسہ کما رہا ہے۔‘

نومبر کے انتخابات میں رائے عامہ کے جائزوں کے برعکس رپبلکنز کو دونوں ایوانوں میں کامیابی دلوانے کی اپنی کوشش پر زور دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: ’میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ تصور کریں کہ میں بھی بیلٹ پر موجود ہوں۔‘

انہوں نے مجمع سے کہا: ’میں بیلٹ پر ہوں، میں بیلٹ پر ہوں، بس ایک بار پھر۔‘

رائے عامہ کے بیشتر جائزوں کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح 30 فیصد کی ابتدائی سطح پر ہے، جبکہ ووٹرز بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ پر بھی شدید ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔

ڈسین ڈیسک ایچ کیو کی پیش گوئی کے مطابق نومبر میں ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان میں 230 نشستیں حاصل کر سکتے ہیں جبکہ رپبلکنز کو 205 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس کو 51 کے مقابلے میں 49 نشستوں سے برتری ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ٹرمپ کا ایران جنگ کا دفاع

ٹرمپ نے غیر مقبول ایران جنگ کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے فتح کی پیش گوئی کی اور اسے تیل کی قیمتوں میں کمی سے براہ راست جوڑ دیا۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ سٹریٹیجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کا نام تبدیل کرکے ان کے نام پر رکھا جانا چاہیے۔

ٹرمپ نے کہا: ’خوراک کی قیمتیں اور تقریباً ہر دوسری چیز کی قیمت تیزی سے کم ہو رہی ہیں اور جیسے ہی ہم ایران کے ساتھ جنگ جیتیں گے، تیل کی قیمت بھی کم ہوجائے گی، جو اس وقت جاری ہے۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

ٹرمپ نے کنونشن میں دیگر رپبلکن رہنماؤں کی طرح امریکہ کو درپیش مبینہ کمیونزم کی لہر کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا: ’اگر وہ جیت گئے تو یہ ایک کمیونسٹ ملک بن جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’آپ کا ووٹ فیصلہ کرے گا کہ ہمارا ملک اگلے 250 سال کے آغاز پر ٹھوکر کھاتا ہے یا آگے بڑھتا ہے اور کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔‘

ٹرمپ جمعرات کو کنونشن کے اختتامی اجلاس میں دوبارہ شرکت کریں گے، جہاں نائب صدر جے ڈی وینس کلیدی خطاب کریں گے۔

کابینہ کے ارکان، کانگریس کے رہنما اور ایوان نمائندگان و سینیٹ کی اہم نشستوں پر انتخابات لڑنے والے امیدوار بھی کنونشن کے مقررین میں شامل ہیں۔

توقع ہے کہ ایوان نمائندگان کے 100 سے زائد ارکان اور امیدوار کنونشن میں شرکت کریں گے، جبکہ ہر رات 50 سے زیادہ مقررین یا پریزنٹیشنز شیڈول ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ