انگلینڈ: جب مظاہرین نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو پناہ گزین سمجھ لیا

مظاہرین اس وقت جمع ہوئے جب ٹیم کے بارے میں غلط معلومات آن لائن پھیل گئی تھیں۔ ایک مقامی شخص نے ایکس پر لکھا: ’پورٹ سولنٹ کے قریب میریٹ ہوٹل میں پناہ گزینوں کو چار بسوں میں لاد کر لے جایا جا رہا ہے۔‘

پولیس اہلکار 7 ستمبر 2026 کو برطانیہ کے شہر پورٹس ماؤتھ میں پناہ گزینوں کی آمد کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد ایسٹنی فیری لینڈنگ پر پولیس کی کشتی سے اتر رہے ہیں (روئٹرز)

پناہ گزین مخالف مظاہرین نے منگل کو پورٹس ماؤتھ میں ایک مظاہرے کے دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ارکان کو پناہ کے متلاشی افراد (Asylum Seekers) سمجھ لیا۔

تقریباً 50 افراد پر مشتمل اس غلط فہمی کی بنیاد پر ایک گروہ فور سٹار میریٹ ہوٹل کے باہر جمع ہوا کہ پناہ گزینوں کی ’چار بسوں‘ کو وہاں لایا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ہیمپشائر کاؤنٹی میں پناہ کے متلاشی افراد کو کشتیوں سے اتارے جانے کے چند روز بعد پیش آیا۔

اس سے قبل اتوار کی رات دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند کارکنوں کی بڑی تعداد پورٹس ماؤتھ پہنچی تھی، جہاں انہوں نے پولیس کے ساتھ جھڑپیں کیں اور سڑکیں بند کر دیں تاکہ نئے آنے والے پناہ گزینوں کو لے جانے سے روکا جا سکے۔

کونسلر جارج میڈگوِک، جو ہوٹل میں موجود تھے، نے کہا کہ اس کے بعد سے مقامی رہائشی ’ہائی الرٹ‘ پر تھے۔

منگل کو ہیمپشائر کاؤنٹی کونسل میں ’ریفارم یو کے‘ گروپ کے سربراہ کو جائے وقوعہ پر بلایا گیا اور انہوں نے ہوٹل کے مینیجر سے بات کی، جنہوں نے وضاحت کی کہ ہوٹل میں موجود مہمان دراصل پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے ارکان تھے۔

انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’بظاہر جب (پاکستانی کھلاڑیوں کو لانے والی) بس اس دن وہاں پہنچی تو وہ اسی برانڈ، ماڈل اور رنگ کی تھی، جس میں اتوار کو پناہ گزینوں کو لے جایا گیا تھا، اس لیے میرے خیال میں یہی وجہ تھی کہ یہ غلط فہمی پیدا ہوئی۔‘

اس کے بعد انہوں نے اُس شخص کو اس غلط فہمی کے بارے میں بتایا، جس نے مظاہرے کا اہتمام کیا تھا اور اسے سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کر رہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’انہوں نے کہا، اوکے، ہمیں واقعی افسوس ہے، ہم سے غلطی ہو گئی‘ اور میں نے کہا: ’اچھا، اگر آپ اب یہاں سے چلے جائیں تو بہت اچھا ہوگا۔‘

کونسلر میڈگوِک نے کہا کہ ہوٹل کے گرد ڈرون بھی چکر لگا رہے تھے، تاہم انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں سے آئے تھے۔

مظاہرین اس وقت جمع ہوئے جب ٹیم کے بارے میں غلط معلومات آن لائن پھیل گئی تھیں۔ ایک مقامی شخص نے ایکس پر لکھا: ’پورٹ سولنٹ کے قریب میریٹ ہوٹل میں پناہ گزینوں کو چار بسوں میں لاد کر لے جایا جا رہا ہے۔‘

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطے میں ہے اور اس نے انڈر 19 ٹیم کی سکیورٹی کا جائزہ لیا ہے۔

اتوار کے مظاہرے کے بعد پولیس کو رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹی ٹیوشن (آر این ایل آئی) سٹیشن کے باہر تعینات دیکھا گیا، جہاں پناہ گزینوں کو ساحل پر لایا گیا تھا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی جب جان بچانے والی اس فلاحی تنظیم کے خلاف نفرت انگیز مہم شروع ہو گئی اور بعض افراد نے اسے ’غدار‘ اور ’سروس فراہم کرنے والا مرکز‘ قرار دیا۔

منگل کو آر این ایل آئی کے ایسٹنی اڈے کے باہر پولیس کی دو گاڑیاں موجود تھیں، جب یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ 120 پناہ گزینوں کو بچا کر پورٹس ماؤتھ لانے میں تنظیم کے کردار کی وجہ سے اسے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

آر این ایل آئی نے کہا کہ اس کے بعض رضاکاروں کو جسمانی اور آن لائن بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تنظیم کے چیف ایگزیکٹو پیٹر سپارکس نے ان افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ’نقاب یا کی بورڈ کے پیچھے چھپتے ہیں‘ اور کہا کہ ان کا ’عمل مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔‘

ہیمپشائر پولیس کے چیف کانسٹیبل الیکسس بون نے کہا کہ مظاہرین نے ’کچھ سنگین مسائل‘ پیدا کیے اور چند پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ان افراد کی شناخت کے بعد ’ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔‘

الیکسس بون نے مزید کہا: ’تشدد اور نقصان پرامن مظاہروں کا حصہ نہیں ہو سکتے اور میرے اہلکاروں کے ساتھ مارپیٹ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے انتہائی محنت اور بہادری سے کام کیا اور جو کچھ ہوا، وہ اس کے مستحق نہیں تھے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ