ڈچ رہنما کے قتل پر اکسانے کا سابق پاکستانی کرکٹر پر الزام

نیدرلینڈز میں پراسیکیوٹرز نے عدالت سے انتہائی دائیں بازو کے رہنما کو گستاخانہ خاکے بنانے کے باعث دھمکی دینے پر سابق پاکستانی کرکٹر خالد لطیف کو 12 سال قید کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

سابق پاکستانی کرکٹر خالد لطیف (بائیں) اور ان کے وکیل 14 اپریل 2017 کو لاہور میں ہائی کورٹ کی عمارت سے نکل رہے ہیں۔ خالد لطیف پر میچ فکسنگ کے الزامات تھے۔ (عارف علی / اے ایف پی)

نیدرلینڈز میں پراسیکیوٹرز نے عدالت سے انتہائی دائیں بازو کے رہنما کو دھمکی دینے پر سابق پاکستانی کرکٹر خالد لطیف کو 12 سال قید کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عدالت فیصلہ کا اعلان 11 ستمبر کو کرے گی۔

پاکستانی کرکٹر خالد لطیف کو 2018 میں انتہائی دائیں بازو کے رہنما گیرت ولڈرز کو قتل کرنے کے لیے لوگوں کو اکسانے پر نیدرلینڈز میں مقدمے کا سامنا ہے۔

سابق پاکستانی کرکٹر کو قتل اور مجرمانہ فعل پر اکسانے اور گیرت ولڈرز کے خلاف تشدد کو بھڑکانے کے الزام عائد کیے گئے ہیں۔ خالد لطیف پاکستان میں مقیم ہیں اور انہوں نے عدالتی سماعت میں حصہ نہیں لیا۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ خالد لطیف نے 2018 میں ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں گیرت ولڈرز کو قتل کرنے پر 30 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔

یہ ویڈیو گیرت ولڈرز کی جانب سے پیغمر اسلام کے ’گستاخانہ‘ خاکوں کے مقابلے کے اعلان کے بعد سامنے آئی تھی۔ تاہم بعد میں اس مقابلے کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اسلام میں پیغمبر کی تصویر بنانا ممنوع ہے اور ماضی میں ایسے خاکوں پر مسلمانوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

خالد لطیف کرکٹ ٹیم میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں جن پر 2017 میں میچ فکسنگ کے الزامات ثابت ہونے کے بعد بین الاقوامی میچز کھیلنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے پاکستان کی جانب سے پانچ ون ڈے انٹرنیشنل اور 13 ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں۔

اگرچہ 59 سالہ گیرت ولڈرز کبھی بھی اقتدار میں نہیں رہے تاہم وہ یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی سیاست کرنے والے رہنما ہیں جو گذشتہ دہائی کے دوران نیدرلینڈز میں پناہ گزینوں کی آمد کے سخت مخالف رہے ہیں۔

ان کی فریڈم پارٹی (پی وی وی) ڈچ پارلیمنٹ میں تیسری سب سے بڑی جماعت اور اہم اپوزیشن پارٹی ہے۔ وہ اپنے متازع بیانات کی وجہ سے 2004 سے مسلسل پولیس کی پروٹیکشن میں رہے ہیں۔

ڈچ پراسیکیوشن کے مطابق نیدرلینڈز اور پاکستان کے درمیان عدالتی تعاون اور مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ موجود نہیں ہے اور اس کیس کے حوالے سے اسلام آباد نے ایمسٹرڈیم کی جانب سے تعاون کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا