فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں تین روزہ دورے پر منگل کو انڈیا پہنچے جہاں مصنوعی ذہانت میں تعاون اور فرانسیسی ساختہ رفال لڑاکا طیاروں کے کئی ارب ڈالرکی فروخت کے ممکنہ معاہدے پر بات چیت ہو گی۔
فرانس نئی دہلی کے ساتھ اپنی فوجی شراکت داری کو بڑھانے کا خواہاں ہے، جس میں 114 اضافی فرانسیسی لڑاکا طیاروں کے ممکنہ معاہدے پر بات چیت متوقع ہے۔
میکروں اور ان کی اہلیہ بریژیت پیر کی رات گئے انڈیا کے مالیاتی دارالحکومت ممبئی پہنچے، جو 2017 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کا انڈیا کا چوتھا دورہ ہے۔
وہ منگل کو وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔
اس کے بعد میکروں بدھ اور جمعرات کو ہونے والی مصنوعی ذہانت کی سربراہی کانفرنس کے لیے نئی دہلی جائیں گے۔
فرانسیسی صدر کا یہ دورہ نئی دہلی کی جانب سے گذشتہ ہفتے اس تصدیق کے بعد ہو رہا ہے کہ وہ رفال طیاروں کا ایک بڑا آرڈر دینے کا ارادہ رکھتا ہے، نیز جنوری میں انڈیا اور یورپی یونین کے درمیان تاریخی آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط بھی ہوئے تھے۔
’صدی کا معاہدہ‘
نئی دہلی نے گذشتہ دہائی میں فوجی سازوسامان کے اپنے روایتی بڑے فراہم کنندہ روس پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی ہے، اور دیگر ممالک کی طرف رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ مزید ملکی پیداوار پر بھی زور دیا ہے۔
انڈین وزارت دفاع نے اپنے ایک بیان میں گذشتہ ہفتے کہا گیا تھا کہ رفال طیاروں کی مجوزہ خریداری کی منظوری دے دی گئی ہے جن میں سے ’اکثر‘ انڈیا میں تیار کی جائیں گے۔
بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ نئی دہلی کتنی تعداد میں طیارے خریدے گا لیکن نئی دہلی کی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے کہا کہ 114 کی خریداری کا امکان ہے۔
پیرس میں ’سائنسز پو سینٹر فار انٹرنیشنل سٹڈیز‘ کے انڈین امور کے ماہر کرسٹوف جیفرلوٹ نے 114 رفال کے لیے ممکنہ طور پر 30 ارب یورو (35 ارب ڈالر) کے معاہدے کو ’صدی کا معاہدہ‘ اور دوطرفہ تعلقات کی ممکنہ ’عظیم کامیابی‘ قرار دیا۔
اگر سودے کو حتمی شکل دی گئی تو یہ طیارے ان 36 رفال میں شامل ہو جائیں گے جو انڈیا نے 2016 میں اپنی فضائیہ کے لیے خریدے تھے اور 26 جو اس نے اپنی بحریہ کے لیے آرڈر کیے ہیں۔
اضافی طیاروں پر مذاکرات کو ابھی مینوفیکچرر دساؤ ایوی ایشن کے ساتھ حتمی شکل دی جانی باقی ہے، لیکن فرانسیسی ایوان صدر نے امید ظاہر کی ہے کہ جسے وہ ’تاریخی‘ معاہدہ کہتے ہیں، اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔
’اچھی کیمسٹری‘
مودی اور میکروں منگل کو ممبئی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے انڈیا کی پہلی ہیلی کاپٹر فائنل اسمبلی لائن کا افتتاح بھی کریں گے، جو انڈیا کے ٹاٹا گروپ اور ایئربس کا مشترکہ منصوبہ ہے۔
ایئربس، بنگلورو کے ٹیک ہب کے قریب جنوبی ریاست کرناٹک کے علاقے ویمگل میں قائم سہولت میں ایچ 125 تیار کرے گی جو کمپنی کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا سنگل انجن ہیلی کاپٹر ہے۔
فرانس گذشتہ دہائی میں انڈیا کے اہم ترین دفاعی اور اقتصادی شراکت داروں میں سے ایک کے طور پر ابھرا ہے۔
میکروں کے دفتر نے کہا، ’اس دورے کے ذریعے، ہم انڈیا کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے‘ اور فرانس کی اقتصادی اور تجارتی شراکت داری کو ’متنوع‘ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انڈیا ایک ارب 40 کروڑ آبادی کے ساتھ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور عالمی سطح پر چوتھی بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس ہفتے کی بات چیت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی عالمی اقتصادی بے یقینی، نیز خطے میں چین کے اثر و رسوخ پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
مودی کے دفتر نے کہا کہ بات چیت کا محور ’سٹریٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانے اور اسے نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں مزید متنوع بنانے‘ پر ہوگا۔
فرانس اور انڈیا کے درمیان دوطرفہ تجارت، جو زیادہ تر دفاع اور ایرو سپیس کی بدولت ہے اس کا حجم تقریباً 13 ارب یورو (15 ارب ڈالر) ہے۔ انڈیا کے کمرشل بیڑے میں ایئربس طیاروں کی کافی تعداد شامل ہے۔
انڈیا میں فرانسیسی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری مجموعی طور پر تقریباً 13 ارب یورو (15 ارب ڈالر) ہے۔
دونوں ملکوں کے رہنما قریبی ذاتی تعلقات کو فروغ دینے کے بھی خواہاں ہوں گے۔ کرسٹوف جیفرلوٹ نے کہا، ’بظاہر ایک اچھی کیمسٹری، ایک اچھا ذاتی تعلق موجود ہے۔‘