صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ان کے نئے قائم کردہ بورڈ آف پیس کے اراکین نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے پانچ ارب ڈالر دینے کا عہد کیا ہے اور علاقے میں بین الاقوامی استحکام اور پولیس فورسز کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا یہ وعدے باضابطہ طور پر جمعرات کو واشنگٹن میں بورڈ کے اراکین کے پہلے اجلاس میں اعلان کیے جائیں گے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
یہ واضح نہیں کہ بورڈ آف پیس کے 20 سے زیادہ اراکین میں سے کتنے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے، جو پچھلے ہفتے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملے تھے، شرکت کرنے کی توقع نہیں۔
ٹرمپ کا نیا بورڈ بظاہر ایک وسیع مینڈیٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے جو عالمی بحرانوں کے حل کی کوشش کرے گا۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کو بائی پاس کرنے کی ایک نئی امریکی کوشش ہے کیونکہ ٹرمپ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم عالمی نظام کو دوبارہ ترتیب دینا چاہتے ہیں۔
امریکہ کے بہت سے بڑے یورپی اور دیگر اتحادی اس میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں کیونکہ انہیں شبہ ہے کہ یہ سلامتی کونسل کا مقابل بن سکتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی تصدیق کی کہ جمعرات کا اجلاس یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ہو گا، جسے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے دسمبر میں اعلان کرتے ہوئے برقرار رکھا کہ اس کا نام ڈونلڈ جے ٹرمپ یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس رکھا جا رہا ہے۔
یہ عمارت اس وقت قانونی کارروائی کا سامنا کر رہی ہے جو تھنک ٹینک کے سابق ملازمین اور انتظامیہ کے عہدے داروں نے دائر کی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا ہے کہ رپبلکن انتظامیہ نے پچھلے سال اس عمارت پر قبضہ کر کے تقریباً تمام عملے کو برطرف کر دیا تھا۔