بورڈ آف پیس کے اراکین کا غزہ کے لیے پانچ ارب ڈالر دینے کا عہد: ٹرمپ

امریکی صدرکے مطابق ان وعدوں کا باضابطہ اعلان جمعرات کو واشنگٹن میں بورڈ اراکین کے پہلے اجلاس میں ہو گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ خاتون اول میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ 13 فروری, 2026 کو وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوتے ہوئے واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ان کے نئے قائم کردہ بورڈ آف پیس کے اراکین نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے پانچ ارب ڈالر دینے کا عہد کیا ہے اور علاقے میں بین الاقوامی استحکام اور پولیس فورسز کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کریں گے۔

انہوں نے کہا یہ وعدے باضابطہ طور پر جمعرات کو واشنگٹن میں بورڈ کے اراکین کے پہلے اجلاس میں اعلان کیے جائیں گے۔

ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان وعدوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’بورڈ آف پیس تاریخ کا سب سے نتیجہ خیز بین الاقوامی ادارہ ثابت ہو گا اور اس کا چیئرمین ہونا میرے لیے اعزاز ہے۔‘
 
انہوں نے تفصیل نہیں بتائی کہ کون سے رکن ممالک تعمیر نو کے لیے یہ وعدے کر رہے ہیں یا استحکام کی فورس کے لیے اہلکار فراہم کریں گے۔
 
مگر انڈونیشیا کی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس کے آٹھ ہزار تک فوجی جون کے آخر تک انسانی ہمدردی اور امن مشن کے حصے کے طور پر غزہ میں ممکنہ تعیناتی کے لیے تیار ہوں گے۔
 
یہ رپبلکن صدر کو ملنے والا پہلا واضح عہد ہے۔ غزہ کی تعمیر نو ایک بہت بڑا کام ہوگا۔
 
اقوام متحدہ، عالمی بینک اور یورپی یونین کا اندازہ ہے کہ غزہ کی تعمیر نو پر 70 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ دو برس سے زیادہ کی اسرائیلی بمباری سے غزہ پٹی کا بہت کم حصہ محفوظ بچا ہے۔
 
فائر بندی کے معاہدے میں ایک مسلح بین الاقوامی استحکام فورس شامل ہے۔ تاہم اب تک بہت کم ممالک نے اس مجوزہ فورس میں حصہ لینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
 
10 اکتوبر کے امریکی ثالثی سے ہونے والے فائر بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی افواج اب بھی وقفے وقفے سے فضائی حملے کرتی رہتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ واضح نہیں کہ بورڈ آف پیس کے 20 سے زیادہ اراکین میں سے کتنے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے، جو پچھلے ہفتے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملے تھے، شرکت کرنے کی توقع نہیں۔

ٹرمپ کا نیا بورڈ بظاہر ایک وسیع مینڈیٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے جو عالمی بحرانوں کے حل کی کوشش کرے گا۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کو بائی پاس کرنے کی ایک نئی امریکی کوشش ہے کیونکہ ٹرمپ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم عالمی نظام کو دوبارہ ترتیب دینا چاہتے ہیں۔

امریکہ کے بہت سے بڑے یورپی اور دیگر اتحادی اس میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں کیونکہ انہیں شبہ ہے کہ یہ سلامتی کونسل کا مقابل بن سکتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی تصدیق کی کہ جمعرات کا اجلاس یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ہو گا، جسے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے دسمبر میں اعلان کرتے ہوئے برقرار رکھا کہ اس کا نام ڈونلڈ جے ٹرمپ یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس رکھا جا رہا ہے۔

یہ عمارت اس وقت قانونی کارروائی کا سامنا کر رہی ہے جو تھنک ٹینک کے سابق ملازمین اور انتظامیہ کے عہدے داروں نے دائر کی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا ہے کہ رپبلکن انتظامیہ نے پچھلے سال اس عمارت پر قبضہ کر کے تقریباً تمام عملے کو برطرف کر دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا