عارف حبیب گروپ کا پی آئی اے کے بقیہ 25 فیصد حصص خریدنے کا منصوبہ

عارف حبیب لمیٹڈ کے سی ای او شاہد حبیب نے بتایا کہ ان کا گروپ اپریل کے آخر تک باقاعدہ طور پر ایئرلائن کا کنٹرول سنبھال لے گا۔ 

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کا طیارہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر 10 جنوری، 2025 کو پیرس کے لیے پرواز بھرنے کی تیاری کر رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص خریدنے والا عارف حبیب لمیٹڈ کی سربراہی میں پاکستانی کنسورشیم اب ایئرلائن کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کمپنی کے ایک سینیئر عہدے دار نے اتوار کو اس بات کی تصدیق کی۔

عارف حبیب گروپ کی قیادت میں کنسورشیم نے کئی مراحل کی بولی کے بعد دسمبر 2025 میں پی آئی اے کے 75 فیصد حصص 135 ارب روپے میں حاصل کیے تھے، جس سے ایئرلائن کی مجموعی مالیت 180 ارب روپے بنتی ہے۔ 

اس سے قبل پاکستان نے قرضوں میں ڈوبی ہوئی اس ایئرلائن کو بہتر کرنے کی متعدد ناکام کوششیں کییں، جو برسوں میں 2.8 ارب ڈالر سے زائد کا مالی خسارہ جمع کر چکی تھی۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے سی ای او شاہد حبیب نے عرب نیوز کو بتایا کہ چونکہ پی آئی اے کی نجکاری کی دستاویزات پر جنوری میں دستخط ہو گئے تھے، اس لیے گروپ اپریل کے آخر تک باقاعدہ طور پر ایئرلائن کا کنٹرول سنبھال لے گا۔ 

انہوں نے کہا قوانین کے مطابق گروپ کو حکومت کو بتانا ہو گا کہ وہ ایئرلائن کے باقی 25 فیصد حصص خریدنا چاہتا ہے یا ’انہیں حکومت کے پاس ہی رہنے دینا چاہتا ہے‘۔

انہوں نے کہا ’فی الحال ان کی (عارف حبیب گروپ کی) واضح پوزیشن یہ ہے کہ وہ حکومت سے باقی 25 فیصد حصص حاصل کرنا چاہتے ہیں۔‘

شاہد حبیب نے کہا کہ ایک بار گروپ حکومت کو باقی حصص خریدنے کا فیصلہ بتا دے تو اس کے پاس ادائیگی مکمل کرنے کے لیے 12 ماہ ہوں گے۔

انہوں نے بتایا ’اس کا مطلب ہے کہ اپریل سے اگلے سال اپریل 2027 تک انہیں حکومتِ پاکستان کو اضافی حصص کے عوض 45 ارب روپے (161 ملین ڈالر) کی ادائیگی کرنا ہو گی۔‘

شاہد حبیب نے کہا کہ ملکیت سنبھالنے کے بعد گروپ کا ارادہ صرف انتظامی کنٹرول تک محدود نہیں بلکہ وہ مسافروں کے لیے سروس کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ 

اس میں مجموعی حفاظتی و سکیورٹی معیار کو مضبوط بنانا، عملے کی کارکردگی بہتر کرنا اور ایئرلائن کے ٹکٹنگ سسٹم کو جدید بنانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ گروپ منافع بخش روٹس پر پروازوں کی تعداد بڑھانے کا بھی خواہاں ہے۔

’مثال کے طور پر وہ روٹس جن پر فی الحال ہر دو ہفتوں میں صرف دو پروازیں چلتی ہیں، انہیں بڑھا کر ہفتے میں چھ پروازوں تک کیا جا سکتا ہے۔‘

’اس سے مسافروں کے لیے سہولت اور نشستوں کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاہد حبیب نے بتایا کہ پی آئی اے کے پاس اس وقت 18 آپریشنل طیارے ہیں، جن میں سے کچھ کو اپ گریڈ اور بہتری کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ اضافی سرمایہ کاری سے چھ سے سات مزید طیارے فعال ہو سکتے ہیں۔ ’درمیانی مدت کا ہدف یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں بیڑے کو 18 سے بڑھا کر 38 طیاروں تک پہنچایا جائے۔

’اگرچہ اس کا درست ٹائم لائن ابھی طے نہیں، مگر ارادہ ایک واضح کثیر سالہ منصوبے کے تحت اسے حاصل کرنا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ نئے طیارے لیز پر لینا وقت طلب عمل ہے کیونکہ موجودہ ڈیلیوری سلاٹس 2030، 2031 اور 2032 کے لیے دستیاب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عبوری حل کے طور پر نسبتاً نئے، یعنی آٹھ سے 10 سال پرانے طیارے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

’اگر ابھی آرڈر دے دیا جائے تو بوئنگ یا اس کے مقابلے کے ماڈلز کے ساتھ ساتھ سات سے 10 سال پرانے ایئربس طیارے بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں، تاکہ قلیل مدت میں آپریشن مستحکم اور توسیع کیے جا سکیں۔‘

ایک زمانے میں ایشیا کی صفِ اوّل کی ایئرلائن قرار دی جانے والی پی آئی اے کو بدانتظامی، سیاسی مداخلت، عملے کی زیادتی، بڑھتے قرضوں اور آپریشنل مسائل نے شدید متاثر کیا، جس کے نتیجے میں 2020 میں پائلٹ لائسنسنگ سکینڈل کے بعد یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ نے اس کی پروازوں پر 
پابندی لگا دی تھی۔

اب یورپی یونین اور برطانیہ نے پابندیاں اٹھا لی ہیں، جس سے ایئرلائن کو نئی رفتار ملی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت