کراچی پی آئی اے یا سٹیل مل نہیں، تابش ہاشمی کے بیان پر شہریوں کا ردعمل

معروف کامیڈی شو کے میزبان تابش ہاشمی نے ایک ٹی وی شو میں کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے شہر کی ’نجکاری‘ کی تجویز پیش کر دی تھی۔

تابش ہاشمی کے بیان نے سندھ کے سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں کچھ لوگ اسے محض طنز قرار دے رہے ہیں تو دوسرے اسے سندھ کی وحدت پر حملہ سمجھ رہے ہیں (تابش ہاشمی انسٹاگرام)

پاکستان کے معروف کامیڈی شو کے میزبان تابش ہاشمی اس وقت سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ یہ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب جیو ٹی وی کے پروگرام ’رپورٹ کارڈ‘ میں کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے تابش ہاشمی نے شہر کی ’نجکاری‘ کی تجویز پیش کی۔

ان کے اس بیان نے سندھ کے سیاسی، سماجی اور صحافتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں کچھ لوگ اسے محض طنز قرار دے رہے ہیں تو کچھ اسے سندھ کی وحدت پر حملہ سمجھ رہے ہیں۔

بیان جس نے تنازع کھڑا کیا

تابش ہاشمی نے کراچی کے انتظامی مسائل اور حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’تو جس طرح حکومت نے ریالائز کیا کہ ان سے پی آئی اے نہیں چل پائی، اس کو پرائیوٹائز کر دیا، کراچی کو بھی پرائیوٹائز کر دیتی ہے۔ ہم کراچی والے، پٹھان، بلوچ، سندھی، مہاجر، جتنے بھی لوگ ہیں یہاں پنجابی، وہ ہم کراچی مل کر خرید لیں گے۔ اگر یہی چلنے کا کرایٹیریا اور سٹینڈرڈ ہے تو اس طرح تو ہم چلا لیں گے۔‘

یہ بیان سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے مختلف انداز میں ردعمل دینا شروع کر دیا۔ کچھ لوگوں نے اسے شہر کی تنظیم نو کے لیے طنزیہ اور مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیے گئے نکتہ نظر کے طور پر لیا، جبکہ دوسرے حلقوں نے اسے سندھ اور کراچی کے خلاف حملہ تصور کیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس اور فیس بک پر اس معاملے نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں تابش ہاشمی کے حق اور مخالفت میں مختلف پوسٹس شیئر کی جا رہی ہیں، جن میں بعض میں جذباتی زبان اور لسانی حساسیت بھی شامل ہے۔

کچھ صارفین انتہائی جذباتی ہو گئے اور انہوں نے تابش ہاشمی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایک صارف نے لکھا: ’ تابش ہاشمی ،کراچی میں پیدا ہوئے لیکن ان کے آباؤاجداد ہندوستان سے ماضی قریب میں تشریف لے آئے ،ان کو اپنے آباؤ اجداد کے ملک سے انسیت تو یقینی ہو گی۔ اس لیے سندھ کے دارالخلافہ کراچی کی پرائیوٹائزیشن کا چورن بیچنے والے اس اینکر پرسن کے لیے اچھا یہ ہو گا کہ واپس ہندوستان چلے جائیں ،ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘

تابش کے دفاع میں بھی آوازیں آئیں

دوسری جانب مرزا ثبعان بیگ جیسے صارفین تابش کے دفاع میں کھڑے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ تابش نے سندھ دھرتی کے خلاف نہیں بلکہ ناقص انتظامیہ کے خلاف بات کی ہے۔

انہوں نے اپنی پوسٹ میں واضح کیا کہ ’تابش ہاشمی نے کہا کہ جس طرح پی آئی اے کو بیچا، لاؤ کراچی کو فروخت کردو، اس نے سندھ حکومت کو نشانہ بنایا ہے، اس نے سندھ دھرتی کے خلاف ایک بات تک نہیں کی، اس کی گفتگو کے اندر لفظ سندھ یا سندھی تک موجود نہیں تھا مگر وہ اپنی شہر کے لیے کہہ رہا تھا کہ تم نہیں سنبھال سکتے۔ ہمیں دے دو ہمیں بیچ دو۔‘

ماؤں کی نجکاری ہوتی ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو نے اس معاملے پر سوشل میڈیا پر ردعمل دینے والے سینیئر صحافی سنجے سادھوانی سے گفتگو کی، جنہوں نے تابش ہاشمی کے بیان پر گہرے دکھ اور حیرت کا اظہار کیا۔

سنجے سادھوانی کا کہنا کہ ’میں نے سوشل میڈیا پر تابش ہاشمی کا وہ سٹیٹس پڑھا جو مختلف لوگوں نے پوسٹ کیا جس میں کہا گیا کہ کراچی کو پرائیویٹائز کرو۔ پہلے تو مجھے یقین نہیں آیا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ شاید تابش نے یہ نہیں بولا ہوگا۔ کیا ماؤں کی نجکاری ہوتی ہے؟ سندھ دھرتی تو ہمارے لیے ماں ہے اور کراچی اس کا دارالخلافہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ انہیں تابش کی بات سے تکلیف پہنچی ہے۔

’میں تو تابش بھائی کو یہ ہی کہوں گا کہ آپ سندھ دھرتی کی، حکومت کی دشمنی میں، پیپلز پارٹی کی دشمنی میں اس حد تک نہ جائیں کہ آپ کے کہے سے ہمیں تکلیف پہنچا شروع ہوجائے۔‘

کراچی کوئی پی آئی اے یا سٹیل مل نہیں 

سیاسی و سماجی تجزیہ کار دودو چانڈیو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کراچی کی تاریخی اہمیت اور اس بیان کے اثرات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ ایک فنکار کو حساس موضوعات پر بات کرتے ہوئے احتیاط کرنا چاہیے۔

دودو چانڈیو کے مطابق: ’میں سمجھتا ہوں کہ ایک کامیڈین کو اپنا مثبت رول ادا کرنا چاہیے۔ ایک ایسے علاقے یا شہر جس کی وحدت کی ہزاروں سال کی تاریخ ہو اس کی تقسیم یا نجکاری کی بات کرنا ان کے منہ سے اچھا نہیں لگا۔ کراچی کوئی پی آئی اے نہیں ہے، کراچی کوئی سٹیل مل نہیں ہے۔ کراچی کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے جسے آپ پرائیویٹائز کر دیں۔‘

تابش ہاشمی کو ہندوستان واپس چلے جانے کا مفت مشورہ ۔۔۔ان صاحب کے والد 80 کی دہائی میں بھارت سے پاکستان ہجرت کر کے آئے ،ان کو سندھ میں بغیر کسی رکاوٹ کے ملازمت بھی مل گئی ۔حتاکہ تابش ہاشمی ،کراچی میں پیدا ہوئے لیکن ان کے آباؤاجداد ہندوستان سے ماضی قریب میں تشریف لے آئے ،ان کو اپنے… pic.twitter.com/TQCP1jVdEH

انہوں نے کراچی کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا ’کراچی میں جتنے بڑے ادارے ہیں، یہ 1947 سے پہلے ملیں گے۔ مثال کے طور پر آپ کو انڈسٹری پہلے ملے گی، آپ کو کراچی پورٹ پہلے ملے گی، اسٹاک ایکسچینج 1947 سے پہلے کا ہے، یہاں کے سکول، یہاں کے بازار، پارکس 1947 سے قبل کے ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو نے تنقید کے سلسلے میں تابش ہاشمی سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا، مگر انہوں نے اس موضوع پر بات کرنے سے معذرت کر لی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت لوگوں کی توجہ گل پلازا پر رہنا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل