دنیا کے کن ممالک میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہے؟

دنیا بھر کے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن میں ایک خاص عمر سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جا رہا ہے۔

دنیا بھر کے ممالک بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کر رہے ہیں جن میں ایک خاص عمر سے کم بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جا رہا ہے یا استعمال کی اجازت والدین کی مرضی سے مشروط کی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں ہم ان ممالک کا ایک جائزہ لیں گے جہاں سوشل میڈیا پر عمر کو مدنظر رکھ کر پابندی عائد کی گئی ہے۔

آسٹریلیا میں قانون سازی کے بعد گذشتہ سال دسمبر سے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ جو کمپنیاں اس قانون پر عمل نہیں کریں گی انہیں تقریباً پانچ کروڑ آسٹریلین ڈالرز تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

برطانیہ میں بھی حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیز کو خواتین پر تشدد کے خلاف ایمرجنسی اقدامات اٹھانے کے احکامات دیے ہیں۔ جبکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اے آئی بوٹس کے استعمال کے لیے قوانین سخت کیے جا رہے ہیں۔

چین میں بھی سائبر سپیس ریگولیٹر نے ’مائنر موڈ‘ کے نام سے ایک پروگرام نافذ کیا ہے، جس کے تحت ڈیوائس پر پابندیاں اور ایپس کے لیے مخصوص قواعد لاگو کیے گئے ہیں، تاکہ عمر کے مطابق سکرین ٹائم کو محدود کیا جا سکے۔

ڈنمارک نے نومبر میں اعلان کیا کہ وہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرے گا، تاہم والدین کی اجازت سے 13 سال کی عمر کے بچوں کو محدود رسائی دی جا سکے گی۔

فرانس کی قومی اسمبلی نے جنوری میں ایک بل منظور کیا، جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی ہوگی۔ تاہم قانون بننے کے لیے اس بل کو سینیٹ اور پھر نچلے ایوان سے حتمی منظوری درکار ہے۔

جرمنی میں 13 سے 16 سال کے بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہے، لیکن بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین ناکافی ہیں۔

یونان بھی اسی طرح کے اقدامات کے قریب ہے، اور فروری کے اوائل میں ایک حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ حکومت 15 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کے اعلان کے بہت قریب ہے۔

انڈیا میں چیف اکنامک ایڈوائزر نے جنوری میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ’شکاری‘ قرار دیتے ہوئے عمر کی پابندیوں کی سفارش کی، جبکہ ریاست گوا نے بھی آسٹریلیا کی طرز پر پابندیوں پر غور شروع کر رکھا ہے۔

اٹلی میں 14 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کے لیے والدین کی اجازت لازمی ہے، جبکہ اس سے زیادہ عمر کے لیے اجازت ضروری نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملائیشیا بھی 2026 سے 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کر چکا ہے۔

ناروے کی حکومت نے اکتوبر 2024 میں تجویز دی کہ سوشل میڈیا استعمال کے لیے کم از کم عمر 13 سے بڑھا کر 15 سال کی جائے، جبکہ حکومت 15 سال کی مکمل کم از کم حد مقرر کرنے کے قانون پر بھی کام کر رہی ہے۔

سلووینیا بھی قانون تیار کر رہا ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکا جائے گا، نائب وزیراعظم میٹیج آرکون نے 6 فروری کو بتایا۔

سپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اعلان کیا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی، اور پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے نظام متعارف کرانے ہوں گے، تاہم اس قانون کو پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہو سکتی ہے۔

امریکہ میں پہلے سے موجود قوانین کے تحت کمپنیوں کو 13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرنے سے روکا گیا ہے۔ کئی ریاستوں نے بھی والدین کی اجازت لازمی قرار دی ہے، تاہم ان قوانین کو عدالتوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔

ادھر یورپی پارلیمنٹ بھی نومبر میں ایک قرارداد منظورکر چکی ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے کی سفارش کی گئی، جبکہ پوری یورپی یونین میں کم از کم ڈیجیٹل عمر 13 سال مقرر کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا بھر کی حکومتیں بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سوشل میڈیا پر سخت کنٹرول کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل