امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں اس ہفتے شروع ہونے والا ایک تاریخی مقدمہ یہ قانونی مثال قائم کر سکتا ہے کہ آیا سوشل میڈیا کمپنیوں نے جان بوجھ کر اپنے پلیٹ فارمز بچوں کو عادی بنانے کے لیے تیار کیے تھے؟
کیلی فورنیا کی ریاستی عدالت میں منگل کو جیوری کے انتخاب کا عمل شروع ہونے والا ہے، جسے ایک ’رہنما‘ کارروائی قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ اس کا نتیجہ پورے امریکہ میں اسی طرح کے مقدمات کے سیلاب کا رخ طے کر سکتا ہے۔
اس مقدمے میں فریقِ مخالف الفابیٹ، بائٹ ڈانس اور میٹا ہیں، جو یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مالک ہیں۔
میٹا کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو مارک زکربرگ کو اس مقدمے کے دوران بطور گواہ طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
سینکڑوں مقدمات میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے نوجوان صارفین کو ایسے مواد کا عادی بنایا جس کی وجہ سے وہ مایوسی، کھانے پینے کے مسائل، نفسیاتی ہسپتالوں میں داخلے اور یہاں تک کہ خودکشی تک پہنچ گئے۔
مدعیوں کے وکلا واضح طور پر وہی طریقے اپنا رہے ہیں جو 1990 اور 2000 کی دہائیوں میں تمباکو کی صنعت کے خلاف استعمال کیے گئے تھے، جب اسے بھی اسی طرح کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا تھا جن میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ کمپنیوں نے ناقص مصنوعات فروخت کیں۔
جیوری کے انتخاب کے بعد، جج کیرولین کوہل کی عدالت میں یہ مقدمہ فروری کے پہلے ہفتے شروع ہونے کی توقع ہے۔
اس مقدمے کا مرکز یہ الزامات ہیں کہ 'کے جی ایم' کے نام سے پہچانی جانے والی ایک 19 سالہ لڑکی کو سوشل میڈیا کی لت کی وجہ سے شدید ذہنی نقصان پہنچا۔
سوشل میڈیا وکٹمز لا سینٹر کے بانی میتھیو برگ مین، جن کی ٹیم اس طرح کے 1000 سے زائد کیسز پر کام کر رہی ہے، نے کہا کہ ’یہ پہلی بار ہے کہ کسی سوشل میڈیا کمپنی کو بچوں کو نقصان پہنچانے پر جیوری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘
یہ سینٹر ایک قانونی ادارہ ہے جو سوشل میڈیا کمپنیوں کو انٹرنیٹ پر نوجوانوں کو پہنچنے والے نقصانات کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے وقف ہے۔
برگ مین کا کہنا تھا کہ ’یہ حقیقت کہ اب کے جی ایم اور ان کا خاندان دنیا کی سب سے بڑی، طاقتور اور امیر ترین کمپنیوں کے برابر عدالت میں کھڑے ہو سکتے ہیں، بذاتِ خود ایک بہت بڑی جیت ہے۔
’ہم جانتے ہیں کہ یہ مقدمات مشکل ہیں اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ٹھوس شواہد کے ذریعے ثابت کریں کہ کے جی ایم کو ان کمپنیوں کے ڈیزائن سے متعلق فیصلوں کی وجہ سے نقصان پہنچا—یہ وہ ذمہ داری ہے جو ہم خوشی سے قبول کرتے ہیں۔‘
ڈیزائن نہ کہ مواد
برگ مین کے مطابق، اس مقدمے کا حتمی فیصلہ اسی طرح کے بہت سے کیسز کو ایک ساتھ حل کرنے کے لیے ایک 'مثال' بن سکتا ہے۔
سنیپ چیٹ نے گذشتہ ہفتے تصدیق کی کہ اس نے اس سول مقدمے سے بچنے کے لیے ایک معاہدہ کر لیا ہے جس میں اس پر میٹا، ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے ساتھ مل کر نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔
اس معاہدے کی شرائط ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔
انٹرنیٹ کی بڑی کمپنیوں نے یہ دلیل دی ہے کہ انہیں امریکی کمیونیکیشنز ڈیسنسی ایکٹ کے سیکشن 230 کے تحت تحفظ حاصل ہے، جو انہیں سوشل میڈیا صارفین کی پوسٹس کی ذمہ داری سے آزاد کرتا ہے۔
تاہم، اس مقدمے میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ وہ کمپنیاں ایسے کاروباری ماڈلز کی ذمہ دار ہیں جو لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچنے اور ایسے مواد کو فروغ دینے کے لیے بنائے گئے ہیں جو آخر کار ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
برگ مین نے بتایا کہ ’ہم سوشل میڈیا کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز سے برا مواد نہ ہٹانے پر قصوروار نہیں ٹھہرا رہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
’ہم انہیں اس لیے قصوروار ٹھہرا رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے پلیٹ فارمز بچوں کو عادی بنانے کے لیے ڈیزائن کیے اور ایسے الگورتھم بنائے جو بچوں کو وہ نہیں دکھاتے جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں بلکہ وہ دکھاتے ہیں جس سے وہ نظریں نہیں ہٹا سکتے۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نوجوان صارفین کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کے تحت مقدمات شمالی کیلی فورنیا کی فیڈرل کورٹ اور ملک بھر کی ریاستی عدالتوں میں بھی زیرِ سماعت ہیں۔
کسی بھی کمپنی نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔