خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ کی پولیس کا کہنا ہے کہ سپیشل پولیس سکواڈ نے جمعے کو علاقے میں تین مشتبہ ڈرون کو اینٹی ڈرون سسٹم کے ذریعے ناکارہ بنا کر گرا دیا ہے۔
کوہاٹ پولیس کے سربراہ شہباز الٰہی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ پولیس کی خصوصی ٹیم نے اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈرون کے سگنلز پہلے جام کر دیے جس سے ڈرون کی موٹر بند ہو گئی۔
مزید بتایا گیا کہ ’موٹر بند ہونے کے بعد ڈرون زمین پر آگرا جبکہ ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔‘
دوسری جانب افغان طالبان کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ آج افغان طالبان کی جانب سے کوہاٹ میں پاکستان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس میں کوہاٹ میں فوجی قلعے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
تاہم پاکستان نے اس کی تردید کی ہے اور وفاقی وزارت اطلاعات کی جانب سے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ دراصل افغان طالبان کی حمایت یافتہ ٹی ٹی پی کی جانب سے کوہاٹ میں تین ڈرون استعمال کرنے کی کوشش کی گئی، جنہیں سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، تاہم ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو عام شہری زخمی ہوگئے۔
بیان کے مطابق: ’ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ مشاہداتی طرز کا ڈرون تھا جس کو موڈیفائی کر کے بارودی مواد کو لے جانے کے لیے استعمال کیا گیا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس سے پہلے بھی افغان طالبان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے صوابی، نوشہرہ اور ایبٹ آباد میں فضائی کارروائی کی تھی۔
تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے بعد میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ وہاں بھی ڈرون کا استعمال کیا گیا تھا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
حالیہ پاکستان اور افغانستان کشیدگی میں افغان طالبان کی جانب سے ڈرون استعمال کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے جبکہ دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کی جانب سے بھی مختلف کارروائیوں میں چھوٹے کواڈکاپٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے اب خیبر پختونخوا پولیس کو اینٹی ڈرون گن اور نظام بھی فراہم کیا گیا ہے تاکہ وہ ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی جانب سے ڈرون حملوں کو روک سکیں۔
کوہاٹ میں ڈرون گرائے جانے کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب پاکستان اور افغانستان کے حالات کشیدہ ہیں اور سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان تازہ جھڑپیں گذشتہ ماہ 26 فروری کی شب اس وقت شروع ہوئیں جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے جمعے کی سہ پہر ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ آپریشن غضب للحق کے دوران پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک افغان طالبان کے 663 کارندے مارے گئے جبکہ 887 زخمی ہوئے۔
اسی طرح افغانستان کی 249 چوکیاں تباہ کر دی گئیں جبکہ 44 قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں بھی تباہ کردی گئیں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق افغانستان بھر میں دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے 70 مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’12 اور 13 مارچ 2026 کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان میں دہشت گردوں سے منسلک تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’کابل، پکتیا اور قندھار میں دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے، بشمول لاجسٹک اڈوں اور کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘
بقول وزیر اطلاعات: ’جاری کی گئ ویڈیو واضح طور پر دکھاتی ہے کہ پاکستان نے انتہائی درستگی کے ساتھ صرف انہی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو افغانستان کے اندر سے دہشت گردی کی براہِ راست یا بالواسطہ حمایت کرتی ہیں اور جہاں دہشت گردوں کے کیمپ موجود تھے۔ افغان حکومت کے عہدیداروں اور میڈیا کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کے برعکس کسی شہری آبادی یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘