افغانستان میں طالبان حکومت کے ایک ترجمان نے جمعے کی صبح دعویٰ کیا کہ پاکستان نے قندھار ایئرپورٹ کے قریب فضائی کارروائی میں کام ایئر کے فیول ڈیپو کو نشانہ بنایا ہے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے آج صبح ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ کام ایئر کے جس نجی فیول ڈیپو کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا وہاں سے افغانستان میں نجی ائیر لائنز اور اقوام متحدہ کے طیاروں کو ایندھن فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ’اس سے پہلے بھی حاجی خانزادہ کے نام سے ایک تاجر کی نجی تیل کے ذخیرے کو نشانہ بنایا گیا۔‘
تاحال پاکستان کی جانب سے اس افغان دعوے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
د تیرو تجاوزونو او جنایاتو په دوام یوځل بیا پاکستاني پوځي رژیم په کابل، کندهار، پکتیا، پکتیکااو ځینو نورو برخو کې بمبارد وکړ، په ځینو ځایونو کې یې ملکي کورونه ویشتي چې ښځې او ماشومان یې شهیدان کړل او په ځينو ځایونو کې یې تشې دښتې او خالي ځایونه په نښه کړې دي.
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) March 13, 2026
۲/۱
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جھڑپیں گذشتہ ماہ اس وقت شروع ہوئیں جب پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملے کیے جن کے بارے میں اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ان کا ہدف شدت پسندوں کے ٹھکانے تھے۔
جواب میں افغانستان نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائیاں شروع کیں۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کابل ایسے جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ تاہم طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عسکریت پسندی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان چین کی ثالثی کی کوششوں نے حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان لڑائی کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد اور بیجنگ افغانستان کے معاملے پر ’مکالمے کے عمل‘ میں مصروف ہیں۔
طالبان کی حکومت نے جمعرات کو کہا تھا کہ مشرقی افغانستان میں مبینہ طور پر پاکستانی توپ خانے اور مارٹر فائر سے دو بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد جان سے گئے ہیں۔
طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر مزید کہا ہے کہ پاکستان فوج نے کابل، قندھار، پکتیا اور پکتیکا سمیت دیگر علاقوں پر بھی بمباری کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ان حملوں میں کچھ مقامات پر شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچے شہید ہوئے، جبکہ بعض جگہوں پر غیر آباد مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘
د کابل ښار د ۲۱مې حوزې اړوند د ۲۴م ګذر په سیمه کې د پاکستاني رژیم د ړانده بمبارۍ له امله ملکي کورونه په نښه شوي دي، چې په پایله کې یې د ښځو او ماشومانو په ګډون ۴ تنه شهیدان او ۱۵ نور ټپیان شوي دي.
— Khalid Zadran (@khalidzadran01) March 13, 2026
کابل پولیس ترجمان خالد زدران کے مطابق کابل میں 24ویں گزرگاہ کے علاقے میں ’پاکستانی حکومت کی اندھا دھند بمباری میں شہری گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔
’اس حملے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جان سے گئے جبکہ 15 دیگر زخمی ہو گئے۔‘
پاکستان کی جانب سے فوری کوئی ردعمل تو سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں اس کا موقف رہا ہے کہ وہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا اور دونوں طرف سے اموات کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا مشکل ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بدھ کو ایکس پر پوسٹ میں بتایا تھا کہ ’پاکستانی حملوں سے اب تک فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کے مجموعی طور پر 641 جنگجو مارے جا چکے ہیں۔‘
اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ پاکستان نے ’مضبوطی کے ساتھ ٹارگٹڈ آپریشنز کیے ہیں، اس اصول کے ساتھ کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کسی شہری کو نقصان نہ پہنچے۔‘