بلوچستان میں حکام نے جمعے کو دارالحکومت کوئٹہ کے قریب سورینج کے علاقے میں کوئلے کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں 34 اموات کی تصدیق کی ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پراونشل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مینیجر آپریشنز محمد فہد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گذشتہ روز پیش آنے والے اس واقعے کے بعد جمعے تک 34 کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مزید کان کنوں کی لاشوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
حادثے میں متاثر زیادہ تر افراد کا خیبر پختونخوا کے علاقے شانگلہ اور دیگر علاقوں سے ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صوبے کے چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف کے مطابق کان میں میتھین گیس بھرنے کے باعث دھماکہ ہوا، جس کی وجہ سے کان بیٹھ گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امدادی کارروائیاں چار ہزار فٹ کی گہرائی میں جاری ہیں۔ ’ہمیں امید ہے کہ کچھ کان کن زندہ مل جائیں گے، تاہم امکانات کم ہیں۔‘
بلوچستان کے وزیر برائے معدنیات و کان کنی کی ترقی شعیب نوشیروانی نے اس سے قبل روئٹرز کو بتایا تھا کہ دھماکے کے وقت کان کے منہدم ہونے والے حصے میں 40 کے قریب افراد موجود تھے۔
شعیب نوشیروانی کی جانب سے جمعرات کی شب جاری بیان میں کہا گیا کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی دشوار حالات کے باوجود آپریشن مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں اور کان میں پھنسے دیگر مزدوروں تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سورینج میں کوئلے کی کان میں حادثے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں گی۔
شعیب نوشیروانی نے حادثے میں جان سے جانے والے کان کنوں کے لواحقین کو فی کس پانچ لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 3 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی اعلان کیا۔
سورینج ایک پہاڑی علاقہ ہے، جہاں بڑی تعداد میں کوئلے کی کانیں موجود ہیں۔
بلوچستان کے متعدد علاقوں میں کوئلے کے بڑے بڑے ذخائر موجود ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے اب بھی قدیم طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان علاقوں میں آئے دن ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔
بلوچستان لیبر رہنما لالا سلطان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کان کنی کے شعبے میں قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اوقات حادثات پیش آتے رہتے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔
وزیراعلیٰ سر فراز بگٹی نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے فوری رپورٹ طلب کر لی اور ہدایت کی کہ حادثے کی شفاف انکوائری کرکے وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور اگر کسی بھی سطح پر غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو گی۔