’آخری رابطہ دسمبر میں ہوا‘: لیبیا جانے والے خیبر پختونخوا کے 37 نوجوان کہاں ہیں؟

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے متاثرہ خاندان جمعرات کو پہلی مرتبہ مشترکہ طور پر پشاور پریس کلب پہنچے۔

لیبیا میں مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے عمر خان کے چچا مولانا سلامت خیل بھی 30 جولائی کو پشاور میں پریس کانفرنس کرنے والے افراد میں شامل تھے (انڈپینڈنٹ اردو)

خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے عمر خان جیسے 37 نوجوانوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ روزگار کی تلاش میں لیبیا کے راستے یورپ جانے کے خواہشمند ان افراد سے ان کا دسمبر سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔

عمر خان ان 37 نوجوانوں میں شامل ہیں جن کے بارے میں ان کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ آٹھ ماہ سے لاپتہ ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کو شبہ ہے کہ ان میں سے متعدد نوجوان لیبیا کی جیلوں میں ہو سکتے ہیں، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ستمبر 2025 میں روزگار کی تلاش میں گھر چھوڑنے والے 25 سالہ عمر خان کے خاندان کے مطابق ان سے گذشتہ سال دسمبر میں آخری مرتبہ ایک فون کال کے ذریعے رابطہ ہوا تھا۔

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے متاثرہ خاندان جمعرات کو پہلی مرتبہ مشترکہ طور پر پشاور پریس کلب پہنچے، جہاں انہوں نے حکومت پاکستان سے اپنے پیاروں کا سراغ لگانے اور ان کی وطن واپسی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔

پریس کانفرنس میں شریک مولانا سلامت خیل، جو عمر خان کے چچا ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے بھتیجے نے 13 ستمبر 2025 کو پاکستان چھوڑا تھا۔

’وہ بہتر مستقبل کی امید میں لیبیا کے راستے یورپ جانا چاہتا تھا۔ دسمبر 2025 کے بعد سے ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔‘

مولانا سلامت خیل کے مطابق لاپتہ نوجوانوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع سے ہے، جن میں ضلع کرم، پشاور، باجوڑ، صوابی اور نوشہرہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان وزیراعظم، صدر، وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو درخواستیں بھیج چکے ہیں، لیکن اب تک انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے کہاں ہیں۔ اگر حکومت نے مؤثر اقدامات نہ کیے تو ہم احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کریں گے۔‘

لیبیا کا راستہ کیوں خطرناک سمجھا جاتا ہے؟

لیبیا کئی برسوں سے افریقہ اور ایشیا سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ رہا ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ بارہا اس ملک میں مہاجرین کی حراست، تشدد اور غیر یقینی حالات پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (IOM) کے مطابق لیبیا سے یورپ تک جانے والا وسطی بحیرۂ روم کا راستہ دنیا کے مہلک ترین ہجرتی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔

ادارے کے Missing Migrants Project کے مطابق 2025 میں اکتوبر تک اس راستے پر ایک ہزار 46 افراد جان سے گئے یا لاپتہ ہونے کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں 527 اموات صرف لیبیا کے ساحل کے قریب رپورٹ ہوئیں۔

معاملہ پہلے بھی سامنے آ چکا ہے

فروری 2026 میں بھی متاثرہ خاندانوں نے اپنے لاپتہ عزیزوں کے بارے میں حکام سے مدد کی اپیل کی تھی۔ اس وقت اہلِ خانہ نے بتایا تھا کہ نوجوانوں کا آخری رابطہ 18 دسمبر 2025 کو ہوا تھا۔

خاندانوں کے مطابق انہوں نے مختلف سرکاری اداروں سے رجوع کیا، جبکہ ان میں سے بعض نے اوورسیز پاکستانیوں کی وزارت اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی درخواستیں دیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اب تک انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی حتمی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

پشاور پریس کلب میں جمع ہونے والے خاندانوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان لیبیا کے حکام سے براہِ راست رابطہ کر کے لاپتہ نوجوانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرے اور اگر وہ حراست میں ہیں تو ان کی رہائی اور وطن واپسی کے لیے فوری سفارتی اقدامات کیے جائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان