عالمی تنظیم برائے تارکین وطن کے مطابق لیبیا کے ساحل کے نزدیک کشتی الٹنے کے بعد 53 تارکین وطن، جن میں دو بچے بھی شامل تھے، جان سے گئے یا لاپتہ ہو گئے۔
لیبیا
چار حکومتی عہدیداروں نے روئٹرز کو بتایا کہ اس معاہدے کو گذشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور لیبین نیشنل آرمی کے ڈپٹی کمانڈر انچیف صدام خلیفہ حفتر کے درمیان بن غازی میں ملاقات کے بعد حتمی شکل دی گئی۔