لیبیا کے قریب کشتی الٹنے سے 53 تارکین وطن لاپتہ

عالمی تنظیم برائے تارکین وطن کے مطابق لیبیا کے ساحل کے نزدیک کشتی الٹنے کے بعد 53 تارکین وطن، جن میں دو بچے بھی شامل تھے، جان سے گئے یا لاپتہ ہو گئے۔

ایک ریسکیو جہاز کا عملہ 17 جنوری، 2026 کو لیبیا کے ساحل کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں واقع تلاش و بچاؤ کے زون میں ایک کشتی میں تارکینِ وطن کو لائف جیکٹس پہننے میں مدد کر رہے ہیں (اے ایف پی)

بین الاقوامی تنظیم برائے تارکین وطن نے پیر کو بتایا کہ لیبیا کے ساحل کے نزدیک ربڑ کی کشتی الٹنے کے بعد 53 تارکین وطن، جن میں دو بچے بھی شامل تھے، جان سے گئے یا لاپتہ ہو گئے۔ 

کشتی میں 55 افراد سوار تھے۔ تنظیم کے مطابق یہ کشتی جمعرات کو زاویہ سے روانہ ہوئی اور جمعے کو زوارہ کے قریب الٹ گئی۔ 

زاویہ اور زوارہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے مغرب میں واقع ساحلی شہر ہیں۔

آئی او ایم نے بتایا ’لیبیائی حکام کی تلاش اور بچاؤ کی کارروائی میں صرف دو نائجیرین خواتین کو بچایا جا سکا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ اس نے اپنے شوہر کو کھو دیا جبکہ دوسری نے کہا کہ اس نے اس المناک حادثے میں اپنے دو بچے کھو دیے۔‘

اقوام متحدہ کی ایجنسی کے مطابق 2025 میں صرف وسطی بحیرۂ روم میں 1,300 سے زیادہ تارکین وطن لاپتہ ہو چکے ہیں۔

صرف جنوری میں شدید موسم کے دوران متعدد ’خاموش‘ بحری حادثات میں کم از کم 375 افراد مارے گئے یا لاپتہ ہوئے، جبکہ سینکڑوں مزید اموات کے غیر ریکارڈ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایجنسی نے کہا ’اس حالیہ واقعے کے بعد 2026 میں اس روٹ پر مرنے والوں یا لاپتہ ہونے والے تارکین وطن کی تعداد کم از کم 484 ہو گئی ہے۔‘

جنوری کے وسط میں مشرقی لیبیا میں ایک اجتماعی قبر سے کم از کم 21 تارکین وطن کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔ دو سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس گروپ کے 10 کے قریب زندہ بچ جانے والے افراد پر تشدد کے آثار تھے، جنہیں قید سے نجات ملنے کے بعد پایا گیا۔

دو دیگر سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس واقعے کے دو روز بعد لیبیائی حکام نے ملک کے جنوب مشرقی شہر کفرہ میں واقع ایک خفیہ جیل سے 200 سے زائد تارکین وطن کو آزاد کرایا، جہاں انہیں غیر انسانی حالات میں رکھا گیا تھا۔
 
2011 میں نیٹو کی حمایت سے معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے لیبیا جنگ اور غربت سے بھاگ کر یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے صحرا اور بحیرہ روم کے خطرناک راستوں کے ذریعے ایک اہم گزرگاہ بن چکا ہے۔
 
گذشتہ نومبر میں جینیوا میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران برطانیہ، سپین، ناروے اور سیرالیون سمیت کئی ممالک نے لیبیا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حراستی مراکز بند کرے، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو تشدد، بدسلوکی اور بعض اوقات قتل تک کا سامنا کرنا پڑتا
 ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا