پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ ’عالمی دفاعی نمائش‘ میں پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے میں شرکا نے غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ورلڈ ڈیفنس شو بھرپور انداز میں جاری ہے، جو عالمی دفاعی صنعت کے رہنماؤں، پالیسی سازوں، عسکری ماہرین اور سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ عالمی دفاعی نمائش خادمِ حرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں منعقد کی جا رہی ہے۔
پانچ روزہ دفاعی نمائش 12 فروری تک جاری رہے گی جس میں پاکستان بھی شریک ہے۔
ورلڈ ڈیفنس شو کی افتتاحی تقریب کا باضابطہ افتتاح سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز نے کیا۔ اس عالمی نمائش کا اہتمام جنرل اتھارٹی فار ملٹری انڈسٹریز (جی اے ایم آئی) کے تحت کیا گیا ہے، جس میں دنیا بھر سے درجنوں ممالک کی دفاعی کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں۔
نمائش میں فضائی، بری، بحری، خلائی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں جدید دفاعی ٹیکنالوجیز، ہتھیاروں کے نظام اور جدید سیکیورٹی حل پیش کیے جا رہے ہیں۔ ورلڈ ڈیفنس شو اس وقت عالمی دفاعی صنعت کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں مستقبل کے دفاعی تقاضوں اور مشترکہ سلامتی کے چیلنجز پر تبادلۂ خیال کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ سال مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان لڑائی میں جے ایف-17 کی کارکردگی کے بعد اس لڑاکا طیارے میں کئی ممالک نے دلچسپی ظاہر کی۔ پاکستانی حکام اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیا کے خلاف جنگ میں اس طیارے کے استعمال نے لڑاکا جہاز کی جنگی ساکھ کو مزید مستحکم کیا ہے۔
اسلام آباد نے جے ایف-17 کو ایک ’کم لاگت اور مؤثر ملٹی رول لڑاکا طیارے‘ کے طور پر پیش کیا ہے جسے مہنگے مغربی طیاروں کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اب اسے پاکستان کی دفاعی برآمدات کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ’ریاض میں منعقدہ عالمی دفاعی نمائش میں پاکستان فضائیہ کے جے ایف-17 تھنڈر نے شرکا اور دفاعی ماہرین کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے، اور یہ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی جانب سے نمائش کے لیے پیش کیے گئے لڑاکا طیاروں میں نمایاں رہا ہے۔‘
ریاض میں عالمی دفاعی نمائش درجنوں ممالک کے دفاعی حکام، مینوفیکچررز اور فوجی وفود کو ایک چھت تلے جمع کرتی ہے، جو بڑھتے ہوئے عالمی اور علاقائی سکیورٹی خدشات کے تناظر میں اسلحہ برآمد کنندگان کو اپنا سازوسامان دکھانے اور نئے معاہدے کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔
گذشتہ سال اسلام آباد نے ریاض کے ساتھ دوطرفہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
پاکستانی حکام کہہ چکے ہیں کہ چین کے اشتراک سے تیار کردہ جے ایف-17 طیاروں، تربیتی طیاروں، ڈرونز اور ہتھیاروں کے نظام کی فروخت سے متعلق کئی ممالک سے معاہدے متوقع ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کی فوج بنگلہ دیش اور عراق کے ساتھ بھی جے ایف-17 اور دیگر ہتھیاروں کے حوالے سے مذاکرات کی تصدیق کی ہے، تاہم اس کی مزید تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ریاض میں عالمی نمائش کے موقع پر اپنے سعودی ہم منصب خالد بن سلمان سے ملاقات کی اور ریڈیو پاکستان کے مطابق
خواجہ آصف نے سعودی قیادت اور وزیر دفاع کو ’ورلڈ ڈیفنس شو‘ کے ’کامیاب اور شاندار‘ انعقاد پر مبارکباد دی۔
وزیرِ دفاع پاکستان، خواجہ محمد آصف نے ریاض میں منعقدہ ورلڈ ڈیفنس شو کے موقع پر سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلطان سے ملاقات۔ pic.twitter.com/2zp8dHpNyl
— PTV News (@PTVNewsOfficial) February 8, 2026
خواجہ آصف نے اس عالمی دفاعی ایونٹ کو خطے میں دفاعی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔‘
چین کے تعاون سے بنے جے ایف 17 تھنڈر کو پاکستان نے پہلی مرتبہ 27 فروری، 2019 کو انڈیا کے خلاف استعمال کیا اور اس نے فضائی لڑائی میں انڈین طیارہ مار گرایا تھا۔
ایک انجن پر مشتمل کثیر المقاصد جے ایف 17 تھنڈر ایک جدید، ہلکا اور دن رات پرواز کرنے کی صلاحیت رکھنے والا طیارہ ہے، جسے پاکستان ایرو ناٹیکل کمپلیکس، کامرہ اور چین کی چینگڈو ایئرکرافٹ انڈسٹری کارپوریشن نے مشترکہ طور پر 1999 میں تیار کیا۔
At the World Defense Exhibition in Riyadh, the Pakistan Air Force’s JF-17 Thunder has attracted strong interest from visitors and defence experts, standing out among fighter jets displayed by the US, Saudi Arabia and other countries.#JF17 #PAF #GlobalDefenseExpo #RiyadhExpo… pic.twitter.com/C8hND3u3kw
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) February 8, 2026