دہشت گردی کا مقصد امن واستحکام کو نقصان پہنچانا، مؤثر طریقے سے نمٹیں گے: عاصم افتخار

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا: ’ہم اس خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم پہلے ہی ان میں سے بہت سے عناصر کو ختم کر چکے ہیں۔‘

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد 20 جون 2025 کو سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے (اے ایف پی)

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات پاکستان کے امن واستحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے تسلسل کے ساتھ کی جانے والی ایک کوشش ہے، لیکن ان سے ’موثر طریقے سے نمٹا‘ جائے گا۔

ہفتے کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں عرب نیوز کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں عاصم افتخار نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کا مقصد پاکستان کی معاشی بحالی اور عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے مقام کو نقصان پہنچانا بھی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’لیکن ہم ان سے مؤثر طریقے سے نمٹیں گے۔‘ 

پاکستانی مندوب نے یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب رواں ماہ یکم فروری کو بلوچستان کے 12 مقامات پر کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے مربوط حملے کیے تھے، جنہیں سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا کر 200 سے زئد عسکریت پسندوں کو مار دیا۔ بعدازاں چھ فروری کو اسلام آباد کی ایک مسجد میں داعش خراسان کے حملے میں 30 سے زائد افراد جان سے چلے گئے۔ حکام کے مطابق اس حملے کے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں کو پکڑ لیا گیا ہے۔

اسی طرح کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے بھی خصوصاً خیبرپختونخوا میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستانی فوج ان کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور انہیں انڈیا کی سرپرستی حاصل ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ حملوں، خاص طور پر پاکستان کی مغربی سرحد پر ہونے والے حملوں کو پاکستان کی عسکریت پسند گروپوں کے خلاف طویل عرصے سے جاری کامیابی کے تناظر میں دیکھا جائے۔

بقول عاصم افتخار: ’گذشتہ برسوں میں پاکستان نے ملک میں دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کی موجودگی کا بہت کامیابی سے مقابلہ کیا ہے۔‘

انہوں نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو وہ دو بڑے گروہ قرار دیا جو ’دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعے عدم استحکام اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگست 2021 میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں سلامتی کے ماحول میں تبدیلی آئی۔

عاصم افتخار نے مزید کہا: ’حال ہی میں یہ تبدیلی آئی ہے کہ جب سے کابل میں طالبان حکام نے اقتدار سنبھالا ہے، بدقسمتی سے ان گروپوں کو کارروائیاں کرنے، دوبارہ منظم ہونے، تربیت لینے اور بھرتیاں کرنے کے لیے زیادہ جگہ مل گئی ہے۔ وہ اس جگہ کو سرحد پار پاکستان میں حملے منظم کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ پاکستان نے یہ معاملہ دو طرفہ اور کثیرالجہتی فورمز، بشمول اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی ان رپورٹس کا حوالہ دیا جن میں ’افغانستان میں ٹی ٹی پی کی بڑی موجودگی اور اس کے لیے سازگار ماحول کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ردعمل سخت ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ ’ہم اس خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم پہلے ہی ان میں سے بہت سے عناصر کو ختم کر چکے ہیں۔ ہم انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ ان کی مدد کون کر رہا ہے؟‘

عاصم افتخار احمد نے افغانستان سے امریکہ اور دیگر مغربی افواج کے انخلا کے بعد وہاں چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں کی بڑی تعداد کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا: ’بین الاقوامی افواج کا چھوڑا ہوا اربوں ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان طالبان اور بالآخر ان دہشت گرد گروپوں کے ہاتھ لگ گیا۔‘

پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ

انٹرویو کے دوران عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی سٹریٹجک شراکت داری کو سراہا اور عسکریت پسندوں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے دور میں طے پانے والے اس دفاعی تعاون کے معاہدے کو تاریخی اور علاقائی سکیورٹی کے لیے مرکزی حیثیت کا حامل قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ معاہدہ بہت اہم ہے، لیکن اسے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دہائیوں پر محیط تعاون اور مضبوط سٹریٹیجک اتحاد کے تسلسل اور اسے مزید پختہ کرنے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس شراکت داری کی بنیاد ’برادرانہ تعلقات اور علاقائی و عالمی مسائل پر سٹریٹجک ہم آہنگی‘ پر ہے اور اب اسے ’ٹھوس شکل‘ دے دی گئی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب نے گذشتہ سال 17 ستمبر کو ’سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس میں عہد کیا گیا کہ ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس سے مشترکہ دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوا اور دہائیوں پر محیط فوجی اور سکیورٹی تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔

اس معاہدے پر وزیراعظم شہباز شریف کے سرکاری دورہ ریاض کے دوران دستخط کیے گئے تھے۔ دورے کے دوران انہوں نے قصر الیمامہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اس معاہدے کے فوراً بعد اقتصادی تعاون کا فریم ورک بھی طے پایا، جو ایک جامع تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی تعاون میں وسعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سعودی عرب پاکستان کا ایک بڑا اقتصادی شراکت دار ہے۔‘

انہوں نے اسلام کے مقدس ترین مقامات کی دیکھ بھال کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان گہرے عوامی اور روحانی رشتے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا: ’یہ صرف حکومتوں کے درمیان تعلقات نہیں ہیں۔ پاکستان کے عوام سعودی عرب کے لیے بہت احترام رکھتے ہیں۔‘

معاشی ترقی

عاصم افتخار احمد نے انٹرویو کے دوران مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں کی گئی اصلاحات کی بدولت پاکستان کی معاشی سمت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا: ’معاشی اصلاحات کا ایک مکمل عمل شروع کیا گیا ہے، جس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام اور دو طرفہ شراکت داروں کے ساتھ روابط سے منسلک اقدامات شامل ہیں۔‘

ان کے مطابق معاشی اشاریے ’درست سمت کی نشاندہی کر رہے ہیں‘ جب کہ حکومت سرگرمی سے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنا رہی ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ ’صرف ایک یا دو ممالک دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے ہیں۔ چین سی پیک کے ذریعے پوری طرح وابستہ ہے، سعودی عرب سرمایہ کاری کے بڑے مواقع تلاش کر رہا ہے اور ہم متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ اور امریکہ کے ساتھ معاشی تعلقات کو وسعت دے رہے ہیں۔‘

انہوں نے ان کامیابیوں کو براہ راست حالیہ دہشت گرد حملوں کے وقت سے جوڑا۔

انہوں نے کہا کہ ’اسی لیے ہم ان واقعات کو پاکستان کی معاشی ترقی، اقوام متحدہ میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار اور انڈیا کے ساتھ حالیہ تنازع کے بعد پاکستان کو ملنے والی اہمیت کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

غزہ کا معاملہ

پاکستانی مندوب نے غزہ میں فائر بندی اور بین الاقوامی قوانین کی اسرائیل کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں پر پاکستان کی جانب سے سخت مذمت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا: ’ہمارا مؤقف سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی اور ہماری قیادت کی طرف سے بہت واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ہم ان مسلسل خلاف ورزیوں پر گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔‘

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کی حمایت اور اس پر عمل درآمد کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کی منظوری میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کے کردار کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب، قطر اور ترکیہ جیسے شراکت داروں کے ساتھ ہماری مشترکہ توقع یہ ہے کہ اس منصوبے پر مکمل اور نیک نیتی سے عمل کیا جائے۔ پہلے مرحلے میں مستقل جنگ بندی اور اس کے بعد تعمیر نو کو ممکن بنایا جائے۔‘

انہوں نے زور دے کر کہا کہ حتمی مقصد سیاسی ہے۔ ’سیاسی محاذ پر ایسی پیش رفت ہونی چاہیے جو ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف لے جائے۔ یہ ہمارا اصول اور ہمارا حتمی مقصد ہے۔‘

پاکستان کی سفارتی اہمیت

عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان اپنی نئی سفارتی اہمیت کو بین الاقوامی امن اور سکیورٹی کے لیے اپنے دیرینہ مؤقف کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے امن مشنز، قیام امن اور جنگ سے بچاؤ کی سفارت کاری میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم سلامتی کونسل کے تمام ایجنڈوں کو برابر اہمیت دیتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ علاقائی سطح پر پاکستان ’ایک پرامن اور مستحکم افغانستان‘ کا خواہاں ہے، ایرانی ایٹمی مسئلے کے سفارتی حل کی حمایت کرتا ہے اور چین کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اقوام متحدہ میں پاکستان او آئی سی، جی 77، غیروابستہ تحریک اور دیگر فورمز کے ذریعے کثیرالجہتی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔‘

اقوام متحدہ کے مالی بحران اور اصلاحات کے مطالبات پر بات کرتے ہوئے احمد نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ یہ ادارہ ختم ہونے والا ہے۔ بقول عاصم افتخار: ’اقوام متحدہ قائم رہے گا۔ رکن ممالک کی بڑی اکثریت اب بھی کثیرالجہتی نظام پر مکمل یقین رکھتی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اصلاحات ضروری ہیں، لیکن ان کا مقصد اقوام متحدہ کو رکن ممالک کی ترجیحات کے حوالے سے ’زیادہ مضبوط، مؤثر اور جواب دہ‘ بنانا ہونا چاہیے۔

پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ ادارے کے مالی مسائل کی بڑی وجہ رکن ممالک کا اپنے واجبات ادا نہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مسئلہ خود اقوام متحدہ نہیں ہے، بلکہ رکن ممالک کا اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنا ہے۔‘

اقوام متحدہ کے نظام میں بہتر کارکردگی، نگرانی اور احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کا کوئی اور متبادل موجود نہیں ہے۔ کثیرالجہتی نظام کے لیے ہمارا عزم مضبوط ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان