گوجرانوالہ: موبائل فون کے دور میں بھی بچیوں میں مقبول روایتی کھیل ’شٹاپو‘

جن علاقوں میں بچوں تک موبائل فون کی رسائی ابھی زیادہ نہیں ہوئی، وہاں یہ کھیل اور روایات آج بھی زندہ ہیں۔

گوجرانوالہ کے ایک سکول کی چھت پر بریک ٹائم کا منظر دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت برسوں پیچھے لوٹ گیا ہو۔ آج کل جہاں زیادہ تر بچے موبائل فون پر مصروف دکھائی دیتے ہیں، وہیں اس سکول میں بچیاں لڑکیاں قطار بنا کر ’شٹاپو‘ کھیلتی نظر آتی ہیں۔

کوئی خانے بنا رہی ہے، کوئی اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔ یہ سب دیکھ کر بچپن کی خوبصورت یادیں تازہ ہو جاتی ہیں اور ایسا لگتا ہے جیسے ہم اپنے بچپن میں واپس چلے گئے ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ کھیل، جو کبھی محلے کی گلیوں اور سکول کے صحن میں ہر بچہ کھیلتا تھا، اب بہت کم نظر آتا ہے۔ لیکن جن علاقوں میں بچوں تک موبائل فون کی رسائی ابھی زیادہ نہیں ہوئی، وہاں یہ کھیل اور روایات آج بھی زندہ ہیں۔

قائد ایجوکیشن سکول میں چوتھی کلاس میں پڑھنے والی ماہم نے بتایا کہ یہ کھیل ان کے لیے کتنا خاص ہے: ’فون تو سب کے پاس ہے، لیکن مجھے شٹاپو کھیلنے کا زیادہ شوق ہے۔ بریک ٹائم ہوتا ہے تو میں اور میری دوستیں چھت پر جا کر شٹاپو کھیلتی ہیں۔ بہت مزہ آتا ہے۔‘

اسی دوران پانچویں کلاس کی حسنہ کاوش نے کہا: ’مجھے تو اور بھی کھیل پسند ہیں، جیسے ایکلی پیکلی، لیکن میری دوستوں کو شٹاپو زیادہ پسند ہے، اس لیے ہم سب ساتھ کھیلتے ہیں۔ بہت مزہ آتا ہے۔‘

بچوں کے کھیل دیکھ کر والدین بھی جذباتی ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ایک والدہ نے پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا: ’ہمارے وقت میں یہ کھیل ہر جگہ کھیلا جاتا تھا۔ آج کل کے بچے تو زیادہ تر موبائل فون میں لگے رہتے ہیں، اس لیے ایسا منظر دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔‘

سکول کی پرنسپل مسز محسن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ جان بوجھ کر کوشش کر رہی ہیں کہ بچوں کو دوبارہ روایتی کھیلوں کی طرف لایا جائے۔

ان کا کہنا تھا: ’اب یہ کھیل بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ موبائل فون نے بچوں کو اپنی طرف زیادہ کھینچ لیا ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ بچوں کو فزیکل گیمز کی طرف لایا جائے تاکہ وہ صحت مند بھی رہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت بھی واپس آئے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل