دنیا کے بہترین بیڈمنٹن کھلاڑیوں میں سے ایک نے دہلی میں انڈیا اوپن ٹورنامنٹ سے مسلسل تیسرے سال دستبردار ہو گئے ہیں جس کی وجہ انہوں نے انڈین دارالحکومت میں ’انتہائی آلودگی‘ بتائی ہے۔
بیڈمنٹن کی اعلیٰ ترین گورننگ باڈی کے مطابق عالمی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر موجود اینڈرز اینٹونسن نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیوں کہ دہلی کی فضا کا معیار خراب ہے۔
ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی نے مزید کہا کہ دستبرداری پر بیڈمنٹن ورلڈ فیڈریشن (بی ڈبلیو ایف) کی جانب سے ان پر 5000 ڈالر (3900 پاؤنڈ) جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
اینڈرز اینٹونسن نے سوئٹزرلینڈ کی ہوا کے معیار کی نگرانی کرنے والی فرم ’آئی کیو ایئر‘ کا ایک سکرین شاٹ بھی شیئر کیا جس میں بدھ کو دہلی کا ایئر کوالٹی انڈیکس 348 دکھایا گیا تھا، جسے ’بہت خراب‘ کے درجے میں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے لکھا: ’اس وقت دہلی میں انتہائی آلودگی کی وجہ سے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ بیڈمنٹن ٹورنامنٹ کی میزبانی کے لیے مناسب جگہ ہے۔‘
’امید ہے کہ گرمیوں میں صورت حال بہتر ہو جائے گی جب دہلی میں ورلڈ چیمپئن شپ منعقد ہو گی۔‘
یہ مسلسل تیسرا سال ہے کہ اینٹونسن نے ٹورنامنٹ چھوڑا ہے۔ ان کے تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انڈیا اوپن کے حالات کا نئے سرے سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جو عالمی بیڈمنٹن کلینڈر کے اہم ٹورنامنٹس میں سے ایک ہے۔
یہ ٹورنامنٹ موسم سرما میں دہلی میں منعقد ہو رہا ہے، جب گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی سرگرمیوں، تعمیراتی دھول اور پڑوسی ریاستوں میں فصلوں کی باقیات جلانے سے اٹھنے والے دھوئیں کے امتزاج کی وجہ سے شہر میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔
دہلی اکثر سال کے اس حصے میں دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) کی ریڈنگ اکثر ’شدید‘ کے زمرے میں آتی ہے۔
اس سطح پر زیادہ دیر تک رہنے سے سانس کی تکلیف، پھیپھڑوں کی کارکردگی میں کمی اور کھلی فضا میں سخت مشق کرنے والے ایتھلیٹس کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
اینڈرز اینٹونسن کا یہ فیصلہ ان کی ہم وطن میا بلیچ فیلٹ کی جانب سے ٹورنامنٹ کے مقام پر تنقید کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے حفظان صحت اور تربیت کے حالات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔
انہوں نے آن لائن تصاویر شیئر کیں جن میں سٹیڈیم کے اندر صفائی کے مسائل سمیت دیگر مسائل کو اجاگر کیا گیا، جس کے بعد ایک وسیع بحث چھڑ گئی کہ آیا یہ ایونٹ بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔
انہوں نے اخبار دی انڈین ایکسپریس کو بتایا: ’میں کورٹ کے حالات سے خوش ہوں لیکن صحت کے حالات سے نہیں۔‘
’فرش گندے ہیں اور کورٹس میں بہت زیادہ مٹی ہے۔ اس کے علاوہ ایرینا میں پرندے اڑ رہے ہیں اور پرندوں کی بیٹ بھی موجود ہے۔‘
بیڈمنٹن کھلاڑیوں کے ان تبصروں پر انڈیا میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ مقامی عہدےداروں اور سابق کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ کا دفاع کرتے ہوئے دلیل دی کہ بند کمرے میں مقابلے کے مقامات بیرونی آلودگی سے کافی حد تک محفوظ رہتے ہیں اور کھلاڑیوں کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔
انڈیا کی بیڈمنٹن فیڈریشن نے کہا ہے کہ یہ ایونٹ بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق ہے اور اس نے غیر ملکی کھلاڑیوں پر صورت حال کی خرابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام لگایا۔
جریدے فرسٹ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایسوسی ایشن کے جنرل سیریٹری سنجے مشرا نے کہا کہ مین پلیئنگ ایرینا کو صاف ستھرا، گرد و غبار اور کبوتروں سے پاک رکھا گیا تھا اور کئی کھلاڑیوں نے صورت حال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
سنجے مشرا نے فرسٹ پوسٹ کو بتایا: ’ایک ایتھلیٹ کے طور پر جو دھول اور ماحولیاتی عوامل کے لیے زیادہ حساس ہیں، وہ اپنا ذاتی نقطہ نظر بیان کر رہی تھیں کہ حالات کس طرح بعض اوقات ان کی صحت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔‘
آلودگی کا مسئلہ کھیلوں میں بار بار سامنے آیا ہے اور حالیہ برسوں میں کرکٹرز، فٹبالرز اور میراتھن میں حصہ لینے والوں نے بھی آلودگی کے عروج کے موسم میں دارالحکومت میں مقابلہ کرنے کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فضائی آلودگی دسمبر میں لیونل میسی کے دورے کے دوران انڈیا کے لیے بین الاقوامی شرمندگی کا باعث بنی جب سموگ اور حد نگاہ کم ہونے کی وجہ سے ان کی پرواز میں تاخیر ہوئی، اور دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کے ساتھ دہلی کے سٹیڈیم میں ان کی آمد کو ناراض شہریوں کے ایک گروپ کی جانب سے ’اے کیو آئی، اے کیو آئی‘ کے نعروں نے متاثر کیا۔
دہلی کے موسم سرما کی آلودگی غیر معمولی نہیں ہے۔ ہر سال سرد درجہ حرارت اور ہوا کی سست رفتار آلودگی کو زمین کے قریب روک دیتی ہے، جس سے گہری سموگ پیدا ہوتی ہے جو کئی دنوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔ جب ہوا کا معیار تیزی سے گرتا ہے تو اکثر سکول بند کر دیے جاتے ہیں، تعمیراتی سرگرمیاں روک دی جاتی ہیں اور ٹریفک کی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔
انڈیا اوپن کا تنازع اس بارے میں وسیع تر سوالات کو جنم دیتا ہے کہ بین الاقوامی کھیلوں کے ایونٹس کو ماحولیاتی خطرات پر کیا ردعمل دینا چاہیے، خاص طور پر جب موسمیاتی تبدیلی اور شہری آلودگی میزبان شہروں کو تیزی سے متاثر کر رہی ہے۔
اینڈرز اینٹونسن نے یہ اشارہ نہیں دیا کہ آیا وہ مستقبل میں ٹورنامنٹ میں واپس آئیں گے یا نہیں۔
© The Independent