عمران خان کا جیل میں طبی معائنہ: بینائی میں نمایا بہتری: میڈیکل بورڈ

پمز کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ایک میڈیکل بورڈ نے منگل (3 مارچ) کو عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کیا۔

اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ایک میڈیکل بورڈ نے منگل (3 مارچ) کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ ان کی بینائی میں نمایا بہتری آئی ہے۔

پمز کے ترجمان نے منگل کی رات جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان کا  معائنہ ان کو (23 فروری کو) لگائے گئے اینٹی وی ای جی ایف کے دوسرے انجیکشن کے فالو اپ کے طور کیا گیا۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف نے چیئرمین عمران خان کے حوالے سے ہسپتال انتظامیہ کے جاری بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’کوئی بھی طبی معائنہ جو اس کے ذاتی معالجین اور قریبی خاندان کی موجودگی کے بغیر کیا جائے، شفافیت اور اعتبار سے خالی ہے۔‘

سابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے قید میں ہیں اور ان دنوں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ ان کے خلاف 9 مئی 2023 کے احتجاجی واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے)  کے تحت مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔

پاکستان کے 74 سالہ سابق وزیراعظم کو اڈیالہ جیل میں قیام کے دوران دائیں آنکھ میں تکلیف محسوس ہوئی جس سے ان کی ایک آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی تھی۔  

اس بیماری کا علاج کرنے کے لیے عمران خان کو اب تک دو اینٹی وی ای جی ایف انجیکشن لگائے جا چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہیں پمز ہسپتال لایا گیا تھا۔

عمران خان کو پہلا انجیکشن 24 جنوری اور دوسرا 23 فروری کو لگایا گیا تھا۔

پمز کے ترجمان نے مزید بتایا کہ گذشتہ رات عمران خان کا طبی معائنہ کرنے والا میڈیکل بورڈ دو ماہرین امراض چشم پر مشتمل تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بورڈ میں راولپنڈی کی الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے ویٹریوریٹینل ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسرڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز اسلام آباد میں آپتھالمالوجی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ایم عارف خان شامل تھے۔

پی ٹی آئی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کئی مہینوں سے عمران خان کی صحت، آزاد طبی سہولیات تک رسائی اور خاندانی نگرانی میں جانچ پڑتال سے انکار کے حوالے سے سنگین خدشات اٹھائے جا رہے ہیں۔

’پی ٹی آئی اپنی واضح اور غیرمشروط مانگ کو دہراتی ہے کہ عمران خان کا فوری معائنہ ان کے ذاتی معالجین اور اہل خانہ کی موجودگی میں کیا جائے۔ ان کے خاندان کی خواہشات کے مطابق، انہیں آزاد، شفاف اور جامع طبی معائنہ اور علاج کے لیے فوری طور پر شفہ انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جانا چاہیے۔‘

بیان میںں مزید کہا گیا کہ ’آزاد طبی رسائی کی اجازت نہ دینے کی مسلسل انکار عوامی تشویش کو مزید بڑھاتا ہے اور سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ عمران خان کی صحت اور فلاح و بہبود کو سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

بیان میں کہا گیا کہ معائنے کے دوران عمران خان کی دونوں آنکھوں کی بصری تیزی، فنڈوسکوپی، سلٹ لیمپ ایگزامینیشن اور آپٹیکل کوہرنس ٹوموگرافی کا معائنہ کیا گیا۔

’بورڈ اس نتیجے پر پہنچا کہ ان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے جو کہ اس سٹیج پر کافی حد تک اچھی بصارت ہے۔‘

ترجمان پمز کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ’بورڈ نے پہلے سے طے شدہ مزید دیکھ بھال اور علاج کے مشورے کے لیے ہدایات کی سفارش کی۔‘

ڈاکٹروں کے مطابق عمران خان کو آنکھوں کی بیماری سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن (Central Retinal Vein Occlusion)  یا سی آر او تشخیص ہوئی ہے۔

سی آر او میں ریٹینا کی مرکزی ورید میں خون کا لوتھڑا یا کلاٹ پھنس جاتا ہے اور خون کی واپسی میں رکاوٹ بنتا ہے، جس سے آنکھ کے اندر پانی جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ 

اس کے نتیجے میں ریٹینا میں سوجن آ جاتی ہے جس کے باعث نظر دھندلی یا کم ہو جاتی ہے۔

دوسرا انجیکشن لگنے سے پہلے ہی ایک مرحلے پر کے رہنماؤں نے بتایا تھا کہ سابق وزیراعظم کی متاثرہ آنکھ کی بینائی میں بہتری واقعہ ہوئی ہے۔

عمران کی بینائی کے متاثر ہونے کی خبر وصول ہونے کے بعد پی ٹی آئی پارلیمینٹیرینز نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے بعد دھرنا بھی دیا۔

اسی دوران پی ٹی آئی ورکرز نے خینر پختونخوا کے مختلف مقامات پر احتجاج کیا اور دوسرے صوبوں کو جانے والی شاہراہوں کو کئی دن تک بند رکھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست