رواں مالی سال کے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق قابلِ تجدید توانائی سے بجلی کی پیداوار میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس میں ہائیڈل، نیوکلیئر اور سولر توانائی کے ذرائع شامل ہیں۔
سروے میں بتایا گیا ہے کہ گھریلو اور زرعی صارفین زیادہ تر سولر توانائی کی طرف منتقل ہوئے ہیں جبکہ صنعتی شعبے میں بجلی کے استعمال میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً چھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
گذشتہ روز جاری کیے گئے اکنامک سروے کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ سال بجلی کا مجموعی استعمال 80 ہزار گیگا واٹ آور سے زیادہ تھا، جو رواں سال بڑھ کر 83 ہزار گیگا واٹ آور سے تجاوز کر گیا ہے تاہم اس میں گھریلو صارفین کا استعمال کم ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سروے کے مطابق گذشتہ سال پاکستان میں بجلی کے مجموعی استعمال کا تقریباً 50 فیصد، یعنی 39 ہزار 730 گیگا واٹ آور، گھریلو صارفین نے استعمال کیا تھا، جو رواں مالی سال کم ہو کر تقریباً 47 فیصد، یعنی 39 ہزار 472 گیگا واٹ آور رہ گیا ہے۔
پاکستان اکنامک سروے کے مطابق گھریلو صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال میں کمی کی بنیادی وجوہات بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسی طرح زرعی مقاصد کے لیے بجلی کے استعمال میں بھی گذشتہ سال کے مقابلے میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق اس کی وجوہات میں سولر انرجی کا بڑھتا استعمال، آبپاشی کے طریقۂ کار میں تبدیلی، بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی اور ڈیزل سے چلنے والے نظاموں کا متبادل ذرائع کی جانب منتقل ہونا شامل ہو سکتا ہے۔
سولر کمپنی ’وولٹ مائنز‘ سے وابستہ محمد اعجاز کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ سولر توانائی کی طرف منتقلی بہت تیزی سے ہو رہی ہے اور زیادہ تر صارفین یہی شکایت کرتے ہیں کہ وہ بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں سے تنگ آ چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب نیٹ میٹرنگ کے ساتھ ساتھ صرف دن کے اوقات میں استعمال کے لیے سولر نظام لگانے کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے لیکن حکومت کو بھی سولر سسٹمز پر عائد ٹیکسوں میں کمی کرنی چاہیے۔
ملک میں بجلی کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت کی بات کی جائے تو سروے کے مطابق رواں سال مجموعی نصب شدہ صلاحیت 49 گیگا واٹ سے زیادہ رہی، جبکہ بجلی کی مجموعی پیداوار 92 ہزار گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی، جس میں 50 فیصد سے زائد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کی گئی۔