پاکستان نے پیر کو سعودی عرب کے خلاف حالیہ ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور اس کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور امن و خوشحالی کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے پیر ہی کو کہا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران عراقی سرزمین سے آنے والے متعدد ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا، جو مشرقی علاقے اور دارالحکومت ریاض میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
سعودی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یہ دہشت گردانہ حملوں کی کوششیں عراقی سرزمین سے کی گئیں اور ان میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کا ہاتھ تھا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنے دفاع، اپنی صلاحیتوں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کا مکمل اور جائز حق حاصل ہے، اور مملکت مناسب وقت اور مناسب مقام پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
قبل ازیں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنم سے ٹیلی فون پر گفتگو کی جس میں برطانوی وزیر اعظم نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرۂ احمر میں جہازوں پر حملوں کی مذمت کی۔
اینڈی برنم نے حوثیوں کے حملوں اور بحیرۂ احمر میں بحری آمد و رفت کو لاحق خطرات کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور یمنی ملیشیا نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔