امریکہ سے مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان۔ایران مشاورت: رپورٹ

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران ابتدائی بات چیت ہوئی۔

20 جولائی، 2026 کو جاری کی گئی تصویر میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پر ملاقات کر رہے ہیں (اے ایف پی)

تین پاکستانی ذرائع نے کہا ہے کہ چین کی جانب سے شروع کی گئی کوشش کے بعد، پاکستان تقریباً پانچ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کے شکار مذاکرات کی بحالی کی راہ تلاش کر رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ اس ہفتے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے دورہ اسلام آباد کے دوران ابتدائی بات چیت ہوئی۔ یہ ایرانی وزیر داخلہ کا گذشتہ 10 دن میں پاکستان کا دوسرا دورہ تھا۔

پاکستانی حکومت کے بیانات کے مطابق اسکندر مومنی نے، جنہیں ایران کے پاسداران انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، اس ہفتے پاکستانی حکومتی رہنماؤں اور آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات کی۔

تینوں ذرائع نے خبردار کیا کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں بدستور زیادہ ہیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

آبنائے ہرمز کی بندش سے چین متاثر

ایران اور امریکہ کے درمیان مستقبل کے ممکنہ ثالث کے طور پر پاکستان کو انتہائی پیچیدہ صورت حال کا سامنا ہے۔ اس ہفتے یمن کی حوثی ملیشیا نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا، جو اسلام آباد کا قریبی اتحادی ہے اور جس نے گذشتہ سال پاکستان کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

پاکستان سعودی مالی امداد پر انحصار کرتا ہے اور اسلام آباد نے سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔

اسلام آباد اسی طرح بیجنگ پر بھی انحصار کرتا ہے، جو اسلام آباد کا ایک اہم مالیاتی پشت پناہ بھی رہا ہے اور مشرق وسطیٰ کے اہم تجارتی راستوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی حل تلاش کرنے میں اس کے معاشی مفادات وابستہ ہیں۔

تینوں پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گذشتہ ہفتے چین کے دورے کے دوران چینی حکام کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی نئی کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیوں کہ انہیں اس مسئلے پر عوامی سطح پر بات کرنے کا اختیار نہیں تھا۔

ایک پاکستانی سرکاری عہدیدار نے کہا کہ ’چینی ناخوش ہیں کیوں کہ دیگر خلیجی ریاستوں پر ایران کے حملے اور آبنائے ہرمز کی بندش ان کے مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔‘

 بحیرہ احمر میں رکاوٹیں ایک اور اہم تجارتی راستے کو متاثر کریں گی جس پر بیجنگ انحصار کرتا ہے۔

اسحاق ڈار اور پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

ایک بیان میں چین کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’چین پاکستان اور دیگر فریقوں کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ چین ’مشرق وسطیٰ کے خلیجی خطے میں جلد از جلد امن و سکون کی بحالی میں اپنا فعال کردار‘ ادا کرتا رہے گا۔

تہران پر بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود بیجنگ ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اس کے برآمد شدہ خام تیل کا بنیادی خریدار ہے، جو اس توانائی کے وسیلے پر بھاری رعایت سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

گذشتہ برسوں کے دوران، چین نے دوہرے استعمال کے اجزا، چپ کے آلات اور سیٹلائٹ نیوی گیشن سسٹم کے ذریعے ایران کی سکیورٹی کے لیے بھی حمایت میں اضافہ کیا ہے، حالاں کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے چین نے کھلے عام ایران کو فوجی امداد فراہم نہیں کی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیجنگ نے مسلسل پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کی ہے اور مارچ میں مشرق وسطیٰ میں شٹل ڈپلومیسی کی قیادت کے لیے اپنا خصوصی ایلچی بھیجا تھا۔

پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد جنگ کے خاتمے کی طرف بڑھنے کے لیے امریکہ اور ایران نے جون میں مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ اس کا مقصد مستقل معاہدے پر بات چیت کے لیے 60 دن کا وقت فراہم کرنا تھا۔

لیکن بالواسطہ بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کا الزام لگایا اور تنازع دوبارہ شروع ہو گیا۔

حوثیوں نے جمعرات کو کہا کہ انہوں نے اپنی بحری ناکہ بندی کے حصے کے طور پر دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے، جس سے آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کے لیے ایک اور رکاوٹ پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

اس کشیدگی نے پاکستان کی تازہ ترین سفارتی کوششوں کے لیے خطرات اور رکاوٹیں دونوں بڑھا دی ہیں۔

ایک پاکستانی اہلکار نے کہا کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملے روکنا اب ’کسی بھی بات چیت کی بحالی کے لیے پیشگی شرط‘ ہو گی۔

اہلکار نے مزید کہا کہ یہ وہ پیغام ہے جو پاکستان نے ایران تک پہنچا دیا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا