ایران پر مسلسل 13 ویں رات امریکی حملے: سینٹ کام

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ حملوں میں ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کے مقامات اور سمندری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کی فوٹیج سے 23 جولائی، 2026 کو جاری کی گئی ویڈیو سے لیے گئے سکرین گریب میں ایران پر مسلسل 12ویں رات امریکی حملہ دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)

بحری راستوں کے معاملے پر جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد امریکی فوج نے جمعرات کو ایران کے خلاف مسلسل 13ویں رات بھی حملوں کا اعلان کیا ہے۔ 

یہ حملے حوثیوں کے اس بیان کے بعد کیے گئے جس میں انہوں نے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکرز پر حملے کا اعلان کیا، جس سے ممکنہ طور پر ایران جنگ کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے جب کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ 

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے آبنائے کے ساتھ قشم اور بندر عباس میں دھماکوں کی خبر دی جہاں اطلاعات کے مطابق دو افراد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ شمال مغرب میں اندیمشک، امیدیہ اور فیروز آباد کے قریب بھی دھماکے رپورٹ کیے گئے۔ 

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ تازہ ترین حملے مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے سے کچھ دیر قبل ختم ہوئے۔ ان حملوں کا مقصد ’علاقائی پانیوں سے گزرنے والے سویلین اور تجارتی بحری جہازوں کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کم کرنا ہے‘ جب کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے اور بین الاقوامی جہاز رانی کا سلسلہ بحال کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ کرنے کی تنصیبات، مواصلاتی نیٹ ورکس، ساحلی نگرانی کے مقامات اور سمندری صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

سینٹ کام کے مطابق ایرانی پاسدارن انقلاب کے حالیہ حملوں کے باوجود بین الاقوامی آبی راستہ آمد و رفت کے لیے کھلا ہے۔ تجارتی بحری جہاز امریکی فوج کی مدد سے آبنائے میں اپنا آزادانہ سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت مشرق وسطیٰ بھر میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار سرگرم ہیں۔ 

دریں اثنا یمنی حوثیوں نے ایک اور اہم تجارتی راستے کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے، جب کہ عالمی معیشت پہلے ہی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے لڑکھڑا رہی ہے۔ ایران اور امریکہ نے آبنائے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں سے امن کے دور میں دنیا کے تیل اور گیس کا پانچواں حصہ گزرتا تھا، جس کے باعث متبادل راستوں کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔

جیسے جیسے امریکہ اور ایران کے درمیان بیان بازی میں شدت آئی، معاشی نقصانات میں بھی اضافہ ہو گیا۔ جمعرات کو بین الاقوامی معیار کے برینٹ کروڈ آئل کی قیمت چھ فیصد سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

یہ مئی کے بعد کی بلند ترین سطح ہے، اس سے قبل دونوں فریقوں کے درمیان گذشتہ ماہ ایک ابتدائی امن معاہدہ طے پایا تھا جو اب ناکام ہو چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عراق کے وزیراعظم علی الزیدی، جن کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، امن مذاکرات کی اپیل کرنے کے لیے جمعرات کو تہران میں تھے۔ ان کے دفتر نے بتایا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ عراقی سرزمین کو ایران پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ علی الزیدی نے اس ماہ کے شروع میں واشنگٹن میں ٹرمپ سے بھی ملاقات کی تھی۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے جمعرات کو خبردار کیا کہ خطے کو ’محاذ آرائی کے ایک بڑھتے ہوئے دائرے‘ میں دھکیلا جا رہا ہے، جہاں ایک بحران دوسرے کو جنم دے رہا ہے اور ہر کشیدگی اگلی کشیدگی کا باعث بن رہی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’سفارت کاری ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔‘ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ خلیج اور اس کے گردونواح میں حملوں کے نتیجے میں بحری جہازوں اور سامان کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے امریکہ ایران کے منجمد اثاثے استعمال کرے گا۔

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’براہ کرم اگلے نوٹس تک اس بیان کو یہ سمجھا جائے کہ اب سے بحری جہازوں، سامان یا اس سے متعلقہ کسی بھی چیز کو پہنچنے والے ہر قسم کے نقصان کی ادائیگی ان ایرانی پیسوں سے کی جائے گی جو امریکہ کے قبضے اور کنٹرول میں ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا