آبنائے ہرمز میں غیر محفوظ کارروائی برداشت نہیں: امریکی سینٹ کام کا ایران کو انتباہ

سینٹ کام نے ایرانی پاسداران انقلاب پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری مشق ’محفوظ‘ اور ’پیشہ ورانہ‘ انداز میں انجام دے اور بین الاقوامی بحری ٹریفک کی آزادی کو لاحق غیر ضروری خطرات سے گریز کرے۔

ایرانی فوج کی سرکاری ویب سائٹ کی جانب سے 12 ستمبر 2020 کو جاری کی گئی ایک ہینڈ آؤٹ تصویر میں جنوبی ایران میں اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کے قریب خلیج میں ہونے والی ایک فوجی مشق کے آخری روز ایرانی بحری جہاز کو پریڈ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے (ایرانی فوج کا دفتر / اے ایف پی) 

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جمعے کو ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسداران انقلاب پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اعلان کردہ بحری مشق ’محفوظ‘ اور ’پیشہ ورانہ‘ انداز میں انجام دے اور بین الاقوامی بحری ٹریفک کی آزادی کو لاحق غیر ضروری خطرات سے گریز کرے، دوسری صورت میں کسی بھی ’غیر محفوظ کارروائی‘ کو ’برداشت‘ نہیں کیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی سمندری گزرگاہ اور ایک نہایت اہم تجارتی راہداری ہے جو خطے کی معاشی خوش حالی کو سہارا دیتی ہے۔ کسی بھی دن دنیا کے تقریباً 100 تجارتی بحری جہاز اس تنگ آبنائے سے گزرتے ہیں۔

ایران نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں اتوار سے دو روزہ براہ راست فائرنگ پر مشتمل بحری مشق شروع کر رہی ہے۔ اس سے ممکنہ طور پر اس آبی گزرگاہ کی ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔

اسی تناظر میں سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ ’اسلامی انقلابی گارڈ کور پر زور دیتی ہے کہ وہ اعلان کردہ بحری مشق اس انداز میں انجام دے جو محفوظ، پیشہ ورانہ ہو اور بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے جہاز رانی کی آزادی کو لاحق غیر ضروری خطرات سے گریز کرے۔‘

مزید کہا گیا کہ ’امریکی افواج بین الاقوامی فضائی حدود اور پانیوں میں پیشہ ورانہ طور پر کارروائی کرنے کے ایران کے حق کو تسلیم کرتی ہیں۔‘

تاہم ’امریکی افواج، علاقائی شراکت داروں یا تجارتی بحری جہازوں کے قریب کسی بھی غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل سے ٹکراؤ، کشیدگی میں اضافے اور عدم استحکام کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔‘

’مشرقِ وسطیٰ میں کارروائیاں انجام دینے والے امریکی اہلکاروں، جہازوں اور طیاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے‘ کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے سینٹ کام نے مزید کہا کہ ’ہم اسلامی انقلابی گارڈ کور کی جانب سے کسی بھی غیر محفوظ کارروائی کو برداشت نہیں کریں گے، جن میں پروازوں میں مصروف امریکی فوجی بحری جہازوں کے اوپر سے پرواز، کم بلندی یا مسلح حالت میں امریکی فوجی اثاثوں کے اوپر سے پرواز جب ارادے واضح نہ ہوں، امریکی فوجی بحری جہازوں کی جانب تصادم کے راستے پر تیز رفتار کشتیوں کا بڑھنا، یا امریکی افواج کی طرف ہتھیاروں کا رخ کرنا شامل ہے۔‘

سینٹ کام کے مطابق: ’امریکی فوج دنیا کی سب سے زیادہ تربیت یافتہ اور مہلک قوت رکھتی ہے اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ معیار کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے گی اور بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کرے گی۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کو بھی یہی کرنا چاہیے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی سینٹرل کمانڈ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی یورپی یونین نے پاسداران انقلاب کو ملک گیر احتجاج کے دوران کریک ڈاؤن کی وجہ سے دہشت گرد تنظیم قرار دینے پر اتفاق کیا، جسے تہران نے ایک ’نمائشی حربہ‘ قرار دیا ہے۔

ایران نے رواں ماہ کے شروع میں ملک میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا جبکہ ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ بھی تھا۔ اس صورت حال میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر فوجی کارروائی سے متعلق ملے جلے اشارے دیے ہیں، جس سے صورت حال تناؤ کا شکار ہے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ میں اب بھی کئی اڈے بھی برقرار رکھے ہوئے جن کے متعلق ایران پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے رواں ہفتے پڑوسی ممالک کو انتباہ جاری کیا تھا۔

اسی طرح  ایران نے کسی بھی حملے کے جواب میں امریکی اڈوں اور طیارہ بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا