ایران میں بے چینی، پاکستان کے لیے ابھرتے خطرات

ایران میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پاکستان کی معیشت، داخلی سلامتی، سرحدی انتظام اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

ایک شخص تہران کے صادقیہ سکوائر میں 15 جنوری، 2026 کو مظاہرے کے دوران جلائی گئی بس کے ملبے کے پاس کھڑا ہے (اے ایف پی)

اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے بعد ایران کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور کرنسی کے شدید بحران کے باعث مختلف شہروں میں غیر معمولی احتجاج کا سامنا ہے۔

یہ مظاہرے ایرانی مذہبی نظام کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں، خصوصاً اس لیے کہ یہ احتجاج تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر ایک اور فوجی حملے کی کھلی دھمکیاں، مظاہرین کی حمایت اور ایرانی ڈائیسپورا کی سوشل میڈیا پر منظم سرگرمیوں نے صورت حال کو مزید سنگین بنا دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں ایرانی مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر اپنی تحریک جاری رکھیں، ریاستی اداروں پر قبضہ کریں اور اپنے قاتلوں کے نام یاد رکھیں۔

ٹرمپ نے ایرانی حکام کو انتباہ دیا کہ اگر مظاہرین کو کچلنے کے لیے سخت ہتھکنڈے استعمال کیے گئے تو فوجی مداخلت کی جا سکتی ہے۔

ایران میں احتجاج کی یہ تازہ لہر 2019 میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر ہونے والے مظاہروں یا 2022 کی ’ویمن، لائف، فریڈم‘ تحریک (جو مہسا امینی کی موت کے بعد اٹھی) سے مختلف نوعیت کی ہے۔

اگرچہ ایرانی نظام میں اتنی سکت ہے کہ وہ ان مظاہروں کا مقابلہ کر سکے، تاہم اس کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ وہ مظاہرین اور بیرونی خطرات سے کس انداز میں نمٹتا ہے۔

عوام کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست اور معاشرے کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو کم کرنے کے لیے شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی بھی ضروری ہو گی۔

کسی ایک ملک میں عدم استحکام شاذونادر ہی اس کی سرحدوں تک محدود رہتا ہے، بلکہ اکثر پڑوسی ممالک تک پھیل جاتا ہے۔

ایران میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، چاہے اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو، پاکستان کی معیشت، داخلی سلامتی، سرحدی انتظام اور فرقہ ورانہ ہم آہنگی پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔

پاکستان صورت حال کا بغور جائزہ لے رہا ہے اور سفارتی غیر جانب داری برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسے تہران کا داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے پاکستان نے اپنے شہریوں کو ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جہاں بلوچ نسلی آبادیوں کے گہرے سرحد پار روابط ہیں۔

ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان اور پاکستان کے بلوچستان میں علیحدگی پسند شورشیں جاری ہیں۔

مزید برآں ایران پاکستان کی شیعہ آبادی کے لیے ایک خاص حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ شیعہ مسلم دنیا کا روحانی مرکز سمجھا جاتا ہے لہٰذا ایران میں زبردستی نظام کی تبدیلی ہو یا طویل عدم استحکام، اس کے پاکستان پر دور رس نتائج ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس اعلان نے پاکستان کو محدود اختیارات کے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور ان میں سے کوئی بھی بغیر نتائج کے نہیں۔

پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم تقریباً تین ارب ڈالر ہے، جو اکثر سرحد اور مقامی کرنسی کے انتظامات کے ذریعے ہوتی ہے۔

موجودہ امریکی محصولات کے علاوہ 25 فیصد اضافی ٹیرف پاکستان کی اہم برآمدات کو منفی طور پر متاثر کرے گا۔ ایران کے ساتھ تجارت میں کمی کے اثرات توانائی کی فراہمی، سرحدی معیشتوں اور علاقائی روابط پر پڑیں گے۔

اس سے ایران - پاکستان سرحد پر غیر قانونی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ بلوچستان کے وسیع رقبے کے باعث ایران سے ملحقہ بلوچ اضلاع کی معیشتیں پاکستان کے مقابلے میں ایران سے زیادہ جڑی ہوئی ہیں۔

پابندیوں سے قطع نظر، سرحد پار تجارت جاری رہے گی بلکہ غیر قانونی دائرے میں مزید پھیل سکتی ہے، جس سے سمگلرز، انسانی و منشیات کے سمگلنگ نیٹ ورکس اور دیگر غیر ریاستی عناصر فائدہ اٹھائیں گے، جو پاکستان کی نازک معیشت کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

مزید برآں، ایران میں طویل بدامنی اور عدم استحکام، جو ایرانی نظام کے وسائل اور توانائی کو کھینچ لے، ایران - پاکستان سرحدی علاقوں میں سرگرم عسکریت پسند نیٹ ورکس کو مضبوط کرے گا۔

یہ عناصر ایران میں پیدا ہونے والے سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ کے دوران کالعدم بلوچ لبریشن آرمی - آزاد کے سربراہ حربیار مری نے ایک آزاد ’گریٹر بلوچستان‘ کا منشور پیش کیا تھا۔

ایران میں طویل عدم استحکام کی صورت میں اسی نوعیت کے پروپیگنڈا بیانیے دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں۔ ایران - پاکستان سرحد کے دونوں جانب سرگرم علیحدگی پسند گروہ ایسے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے باہم اتحاد کر سکتے ہیں۔

اسی دوران دیگر علیحدگی پسند تنظیمیں بھی عوامی شکایات کا فائدہ اٹھا کر اپنی پرتشدد سرگرمیوں میں تیزی لا سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ داعش خراسان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے گروہ بھی بلوچستان میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایران میں عدم استحکام کے باعث اگر پاکستان کو سرحدی سلامتی پر زیادہ وسائل صرف کرنا پڑے تو ان گروہوں کو اپنے نیٹ ورکس پھیلانے کا موقع مل سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

داعش خراسان بلوچستان کو اپنے نیٹ ورکس کی بحالی کے لیے استعمال کر رہی ہے، جبکہ ٹی ٹی پی صوبے کے پشتون علاقوں میں بلوچ عسکریت پسند دھڑوں کی حمایت حاصل کر کے اپنی موجودگی بڑھا رہی ہے۔

یہ رجحانات پاکستان کے لیے سکیورٹی چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنائیں گے اور تشدد میں اضافے کا سبب بنیں گے۔

ایسے وقت میں جب پاکستان افغانستان کے ساتھ ٹی ٹی پی کی سرحد پار پناہ گاہوں کے باعث پہلے ہی ایک نازک سرحدی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، ایران - پاکستان سرحد پر عدم استحکام ایک بہت بڑا چیلنج ہو گا۔

پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی موجود ہے جو ایران کو روحانی مرکز کے طور پر دیکھتی ہے۔ ہر سال ہزاروں شیعہ زائرین ایران میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔

اگر ایران میں طویل بدامنی رہی تو اس کے پاکستان میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماضی میں پاکستان فرقہ ورانہ جوابی تشدد کا شکار رہا ہے۔

ایران میں بدامنی کے باعث اگر یہ رجحان دوبارہ ابھرا تو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف محنت سے حاصل کی گئی کامیابیاں متاثر ہوں گی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک ٹی ٹی پی کے خطرے کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہا ہے۔

جغرافیائی سیاست کے تناظر میں اگر امریکہ ایران میں فوجی مداخلت کرتا ہے تو پاکستان کو نہایت محتاط سفارتی توازن برقرار رکھنا ہو گا۔

پاکستان کے ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور کئی برسوں کی بداعتمادی کے بعد پاکستان نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کیے ہیں۔ امریکہ - ایران کشیدگی میں سفارتی غیر جانب داری اور ہوش مندانہ سٹریٹجک بصیرت ناگزیر ہوگی۔

پاکستان کو مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دینا چاہیے اور ایران میں کسی بھی یکطرفہ اقدام یا نظام کی زبردستی تبدیلی کی مخالفت کرنی چاہیے۔

2026 کا آغاز پاکستان کے لیے سنگین سفارتی اور سکیورٹی چیلنجز کے ساتھ ہوا ہے۔ اس تناظر میں پارلیمان کے ذریعے اتفاق رائے پر مبنی اجتماعی فیصلہ سازی پاکستان کو ان چیلنجز سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مصنف ایس راجاراتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔ X: @basitresearcher

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ