اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، امن و استحکام کے لیے امید کا اظہار

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران اور خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلۂ خیال کے ساتھ ساتھ ’باہمی دلچسپی کے امور پر دو طرفہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔‘

یہ ہینڈ آؤٹ تصویر 2 اگست 2025 کو لی گئی اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی، جس میں پاکستان کے وزیرخارجہ اسحاق ڈار (دائیں) اسلام آباد میں وزارت خارجہ میں ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کی آمد پر ان کا استقبال کر رہے ہیں (پاکستانی وزارت خارجہ / اے ایف پی)

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہفتے کو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو میں امن اور استحکام کے لیے امید کا اظہار اور باہمی دلچسپی کے امور پر دو طرفہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق: ’دونوں رہنماؤں نے ایران اور وسیع تر خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’اسحاق ڈار نے امن اور استحکام کے لیے امید کا اظہار کیا، جبکہ دونوں فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر دو طرفہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔‘

پاکستانی اور ایرانی وزرائے خارجہ میں یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب ایران میں حالیہ ہفتوں میں ملک گیر حکومت مخالف احتجاج ہوئے۔

ایران دسمبر کے اواخر سے احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔ احتجاج کی شروعات تو معاشی حالات اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ کمی کی وجہ سے ہوئی لیکن پھر یہ مطالبات بڑھتے گئے اور نظام کی تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا جانے لگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی حکام نے گرفتاریوں، طاقت کے استعمال، انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک بند کرنے کر کے اس احتجاج پر قابو پانے کی کوشش کی جس کے بارے میں انسانی حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد احتجاج کی کوریج کو محدود کرنا ہے جبکہ کریک ڈاؤن کے دوران دو ہزار سے زائد اموات کی بھی رپورٹس سامنے آئیں۔

پاکستان کی جنوب مغرب میں ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر طویل سرحد مشترک ہے۔ ایران کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لینے والے پرتشدد مظاہروں کے پیش نظر پاکستان نے ایران کی سرحد سے متصل اضلاع میں سکیورٹی بڑھانے سمیت صورت حال کے ممکنہ اثرات سے بچنے کے لیے نگرانی سخت کردی تھی۔

اس سے قبل پاکستان نے احتجاج سے منسلک حفاظتی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے شہریوں کو ایران کا سفر کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کیا اور انہیں پھانسیاں دیں تو وہ تہران پر حملہ کر دیں گے۔

ایرانی حکام کی جانب سے بھی ہر قسم کی صورت حال کے لیے ’تیاری‘ کا عندیہ دیا گیا۔

تاہم بعدازاں دونوں طرف سے بیانات میں نرمی لائی گئی اور واشنگٹن ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ایرانی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے کہ اس نے ان پھانسیوں پر عمل درآمد نہیں کیا، جو ان کے بقول سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو دی جانی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان