فائرنگ کی آوازیں، تشدد کے قصے سنے: ایران سے واپس آنے والے پاکستانی طلبہ

ایران سے واپس آنے والی پاکستانی طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں کیمپس تک محدود کر دیا گیا تھا۔

ایران میں جاری ملک گیر مظاہروں کے بعد 15 جنوری 2026 کو تہران سے کمرشل پرواز کے ذریعے اسلام آباد پہنچنے کے بعد پاکستانی طالب علم شہنشاہ عباس ایئرپورٹ پر بات چیت کر رہے ہیں (روئٹرز)

جمعرات کو ایران سے واپس آنے والے پاکستانی طلبہ نے بتایا ہے کہ جب وہ کیمپس تک محدود تھے اور انہیں شام کے وقت ہاسٹلز سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی تو انہوں نے فائرنگ کی آوازیں اور ہنگامہ آرائی و تشدد کے قصے سنے۔

ایران کی قیادت 1979 کے انقلاب کے بعد بدترین داخلی بدامنی پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، جب کہ ایک انسانی حقوق کے گروپ نے مظاہروں کے دوران ہونے والی اموات کی تعداد 2600 سے زائد بتائی ہے۔

اصفہان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں چوتھے سال کے طالب علم شہنشاہ عباس نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر بتایا: ’رات کے وقت ہم اندر بیٹھے ہوتے تھے اور ہمیں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔‘

’وہاں صورت حال یہ ہے کہ ہر جگہ ہنگامے ہو رہے ہیں۔ لوگ مر رہے ہیں۔ طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

شہنشاہ عباس نے بتایا کہ یونیورسٹی کے طلبہ کو کیمپس سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی اور انہیں شام چار بجے کے بعد اپنے ہاسٹلز میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کیمپس میں کچھ نہیں ہو رہا تھا۔‘ لیکن ایرانی شہریوں کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے تشدد اور افراتفری کے قصے سنے۔

’اردگرد کے علاقے، جیسے بینک اور مساجد، انہیں نقصان پہنچایا گیا، آگ لگا دی گئی۔ اس لیے حالات واقعی خراب تھے۔‘

ٹرمپ نے بارہا ایران میں مظاہرین کی حمایت میں مداخلت کی دھمکی دی ہے لیکن جمعرات کو انہوں نے اس وقت محتاط رویہ اختیار کیا جب مظاہرے بظاہر کم ہوتے دکھائی دیے۔ ایک ہفتے سے انٹرنیٹ کی بندش کی وجہ سے معلومات کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

فائنل ایئر کے طالب علم ارسلان حیدر نے کہا: ’ہمیں یونیورسٹی سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی، ہنگامے زیادہ تر دن کے آخری حصے میں شروع ہوتے تھے۔‘

ارسلان حیدر نے بتایا کہ وہ مواصلاتی بلیک آؤٹ کی وجہ سے اپنے خاندان سے رابطہ کرنے سے قاصر تھے لیکن ’اب جب کہ انہوں نے بین الاقوامی کالز بحال کر دی ہیں تو طلبا واپس آ رہے ہیں کیوں کہ ان کے والدین پریشان تھے۔‘

تہران میں ایک پاکستانی سفارت کار نے بتایا کہ سفارت خانے کو ایران میں موجود 3500 طلبا میں سے کئی کی کالز موصول ہو رہی تھیں کہ وہ وطن واپس ان کے خاندانوں کو پیغامات پہنچا دیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’چوں کہ ان کے پاس وٹس ایپ اور دیگر سوشل نیٹ ورک کالز کرنے کے لیے درکار انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں تھی اس لیے وہ یہ کرتے ہیں کہ مقامی فون نمبرز سے سفارت خانے سے رابطہ کرتے اور ہمیں کہتے ہیں کہ ان کے خاندانوں کو مطلع کر دیں۔‘

اصفہان میں اپنے فائنل ایئر کے امتحانات کے دوران موجود رمشہ اکبر نے بتایا کہ بین الاقوامی طلبہ کو محفوظ رکھا گیا۔

’ایرانی ہمیں بتاتے تھے کہ اگر ہم سنیپ چیٹ پر بات کر رہے ہوتے یا ٹیکسی میں سفر کر رہے ہوتے، کہ شیلنگ ہوئی ہے، آنسو گیس استعمال ہوئی ہے اور یہ کہ بہت سے لوگ مارے گئے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان