صرف سپریم لیڈر کو جوابدہ پاسداران انقلاب اب کس کے کنٹرول میں؟

 پاسداران انقلاب ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور بم لے جانے والے ڈرونز کے بڑے ذخیرے کو کنٹرول کرتی ہے۔

16 فروری 2026 کو حاصل کی گئی اس تصویر میں ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار جنوبی ایران میں مشق کر رہے ہیں (روئٹرز)

ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) ملک کی ایک طاقتور فورس بن چکی ہے، جو صرف ملک کے سپریم لیڈر کو جوابدہ ہے اور وہ اپنے ملک کے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کی نگرانی اور بیرون ملک حملوں کی ذمہ دار ہے۔

یہ فورس ایک بار پھر توجہ کا مرکز ہے کیوں کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی فضائی حملوں کی مہم کے آغاز کے بعد مشرق وسطی بھر میں اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

انقلاب سے جنم لینے والی فورس

پاسداران انقلاب 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں ایک ایسی فورس کے طور پر ابھری جس کا مقصد ملک کی مذہبی شخصیات کی زیر نگرانی اور حکومت کا تحفظ کرنا تھا لیکن بعد میں پاسداران انقلاب نے ایران کی باقاعدہ مسلح افواج کے متوازی کام کیا، اور 1980 کی دہائی میں عراق کے ساتھ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کے دوران اس کی اہمیت اور طاقت میں اضافہ ہوا۔

اگرچہ جنگ کے بعد اسے ممکنہ خاتمے کا سامنا تھا، لیکن خامنہ ای نے اس کے اختیارات اور دائرہ کار میں توسیع کر دی جس سے اس فورس کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔

پاسداران انقلاب خاتم الانبیا نامی ایک بہت بڑی تعمیراتی کمپنی چلاتی ہے اور اس کی ایسی کمپنیاں بھی ہیں جو سڑکیں بناتی ہیں، بندرگاہوں کا انتظام سنبھالتی ہیں، ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک چلاتی ہیں اور یہاں تک کہ لیزر سے آنکھوں کی سرجری کی سہولت بھی فراہم کرتی ہیں۔

بیرون ملک کارروائیاں

پاسداران انقلاب کی قدس فورس جو اس محاذ کو بنانے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اسے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے خلاف اپنا ’محور مزاحمت‘ قرار دیتا ہے۔ اس نے شام کے سابق صدر بشار الاسد، لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ، یمن کے حوثی باغیوں اور خطے کے دیگر گروہوں کی مدد کی اور 2003 میں عراق پر امریکی قیادت میں ہونے والے حملے کے بعد اس کی طاقت میں اضافہ ہوا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب نے عراقی عسکریت پسندوں کو وہاں امریکی فوجیوں کے خلاف خاص طور پر  سڑک کنارے نصب کیے جانے والے بم بنانے اور استعمال کرنے کی تربیت دی۔ 

اسرائیل اور حماس کی حالیہ جنگ کے بعد سے، اسرائیل نے ایسے شہریوں کو گرفتار کیا ہے جن پر اس نے اہداف کی نگرانی یا تخریب کاری کے لیے ایران سے احکامات وصول کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ایران نے ان سازشوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ پاسداران انقلاب مشرق وسطی بھر میں سمگلنگ میں بڑے پیمانے پر ملوث ہے۔

انٹیلی جنس ونگ

پاسداران انقلاب اپنی خفیہ سروسز بھی چلاتی ہے اور بند کمرے کی سماعتوں میں جاسوسی کے الزامات پر دوہری شہریت رکھنے والوں اور مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاریوں اور سزاؤں کے کے پیچھے اسی کا ہاتھ رہا ہے۔

پاسداران انقلاب پر نیا دباؤ

2023 میں اسرائیل پر حملے کے بعد پاسداران انقلاب کے محتاط انداز میں بنائے گئے ’محور مزاحمت‘ کو اپنے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس ان گروپوں میں شامل ہے جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔

شام میں، دسمبر 2024 میں اسد کی حکومت گر گئی، جس سے تہران اور پاسداران انقلاب کا ایک اہم اتحادی چھن گیا۔ اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے پر میزائل داغے، جس کی نگرانی پاسداران انقلاب نے کی۔

جون میں، اسرائیل نے ایران کو نشانہ بناتے ہوئے وسیع فضائی حملے کی مہم شروع کی۔ اس کے پہلے ہی دن، ان حملوں میں کے اعلیٰ جنرل مارے گئے، جس سے فورس میں افراتفری پھیل گئی۔ اسرائیلی حملوں نے بیلسٹک میزائلوں کے ٹھکانوں اور لانچرز کے ساتھ ساتھ پاسداران انقلاب کے زیر انتظام فضائی دفاعی نظام کو بھی تباہ کر دیا۔

حالیہ مظاہروں پر کریک ڈاؤن

ایران میں، اس کی مذہبی حکومت جن اہم طریقوں سے مظاہروں کو کچل سکتی ہے ان میں سے ایک بسیج کے ذریعے ہے، جو پاسداران انقلاب کا مکمل طور پر رضاکارانہ ونگ ہے۔

28 دسمبر کو شروع ہونے والے مظاہروں کی ویڈیوز میں بسیج کے ارکان کو لمبی بندوقیں، لاٹھیاں اور پیلٹ گنیں پکڑے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان کی فورسز کو مظاہرین پر تشدد کرتے اور سڑکوں پر ان کا پیچھا کرتے دیکھا گیا ہے۔ بسیج کے ایک معروف کمانڈر نے سرکاری ٹیلی ویژن پر آ کر والدین کو خبردار کیا کہ وہ اپنے بچوں کو گھروں میں رکھیں، جب کہ اس نے فورس کے ارکان کو مظاہروں کو کچلنے کے لیے جمع ہونے کا بھی کہا۔

یورپی یونین نے جنوری میں تہران کی جانب سے مظاہروں پر خونی کریک ڈاؤن کی وجہ سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

اب پاسداران انقلاب کس کے کنٹرول میں ہے؟

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خلیجی عرب ممالک، جو ماضی میں تہران کے لیے ثالث کا کردار ادا کر چکے ہیں، پر حملوں کے حوالے سے دباؤ ڈالے جانے کے بعد یہ تاثر دیا ہے کہ ان کے ملک کے فوجی یونٹ کسی بھی مرکزی حکومتی کنٹرول سے آزاد ہو کر کام کر رہے ہیں۔

اس سے قبل عمان پر حملے ہو چکے ہیں، جس نے امریکہ کے ساتھ حالیہ ایٹمی مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا، اور قطر پر بھی، جس نے تہران کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں اور وہ ایران کے ساتھ خلیج فارس میں قدرتی گیس کے ایک بہت بڑے سمندری ذخیرے میں شراکت دار ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عباس عراقچی نے یکم مارچ کو الجزیرہ کو بتایا، ’عمان میں جو ہوا وہ ہمارا انتخاب نہیں تھا۔ ہم پہلے ہی اپنی، آپ جانتے ہیں، فوج، مسلح افواج کو بتا چکے ہیں کہ وہ جن اہداف کا انتخاب کرتے ہیں ان کے بارے میں محتاط رہیں۔

’درحقیقت، ہمارے، آپ جانتے ہیں، فوجی یونٹ اب دراصل خود مختار اور کسی حد تک الگ تھلگ ہیں اور وہ انہیں پیشگی دی گئی ہدایات، آپ جانتے ہیں، عمومی ہدایات، کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں۔‘

ایران کا معاملہ خاص معاملہ ہے کیوں کہ پاسداران انقلاب اس کے بیلسٹک میزائلوں کے وسیع ذخیرے اور بم لے جانے والے ڈرونز کے بڑے ذخیرے کو کنٹرول کرتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا