پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کے بعد جمعے کی شب راولاکوٹ میں تصادم کے نتیجے میں پولیس کے مطابق ایک شخص جان سے گیا اور تین زخمی ہو گئے جبکہ وادی میں گذشتہ رات سے انٹرنیٹ سروسز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔
مظفرآباد سے صحافی ندیم شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی جانب سے اہم تنصیبات کی حفاظت کے لیے کشمیر بھر میں فیڈرل فورسز جن میں رینجرز اور ایف سی شامل ہیں، تعینات کرنے کی استدعا کی گئی تھی، جس کے تحت فورسز کے تازہ دم دستے کشمیر پہنچ گئے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے گذشتہ شب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نامی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
نوٹیفکیشن کے متن کے مطابق: ’تنظیم کے خلاف امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کے معقول شواہد ہیں اور تنظیم ریاست میں انتشار پیدا کرنے میں ملوث پائی گئی۔‘
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے ساتھ ساتھ 37 دیگر مطالبات کے حق میں 9 جون کو کشمیر بھر میں پہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال اور لانگ مارچ کی کال دی تھی۔
حکومت کی جانب سے کمیٹی کے ساتھ آخری مذاکرات 30 مئی 2026 کو ہوئے تھے، جن کی ناکامی کے بعد بار بار ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کے ساتھ ساتھ مزید وقت دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لیکن جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مزید وقت لینے سے نکار کرتے ہوئے 9 جون کی کال برقرار رکھی تھی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی جانب سے مہاجرین کی 12 نشستوں کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی گئی تھی۔
ان نشستوں پر کسی بھی فیصلے کا اختیار قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے۔
دوسری طرف حکومت کی جانب سے 12 مہاجرین نشستوں کی آئینی حیثیت اور قانونی رائے کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ سے بھی استدعا کی گئی ہے، جس پر سماعت جاری ہے۔
راولا کوٹ کے علاوہ کشمیر کے دیگر اضلاع میں حالات نارمل ہیں، تاہم نو جون کی ہڑتال کی کال، لاک ڈاؤن اور لانگ مارچ کے پیش نظر پیٹرول پمپس پر شہریوں کا رش ہے اور لوگ اشیائے خوردنوش اور دیگر سامان جمع ذخیرہ کر رہے ہیں۔