جبری مشقت: امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ملکوں پر 12 فیصد تک درآمدی ٹیرف عائد

فیڈرل رجسٹر کے مطابق نئے محصولات امریکہ کی 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیا سمیت کئی مصنوعات کو چھوٹ دی گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو اپریل 2025 کو وائٹ ہاؤس میں ٹیرف سے متعلق خطاب کے دوران امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے ہمراہ ایک چارٹ تھامے ہوئے ہیں (روئٹرز)

ٹرمپ انتظامیہ نے جمعے کو یورپی یونین، پاکستان، انڈیا اور چین سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے امریکہ آنے والی اشیا پر 10 فیصد اور 12.5 فیصد کے نئے محصولات (ٹیرف) عائد کر دیے ہیں۔ 

یہ اقدام ان الزامات پر کیا گیا کہ یہ ممالک جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیا پر پابندی پر سختی سے عمل نہیں کر رہے۔ نئے محصولات عین اس وقت نافذ ہوئے جب دنیا بھر کی اشیا پر عائد عارضی 10 فیصد محصول ختم ہو چکا ہے۔

محصول عائد کرنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تقریباً عالمی ٹیرف کے انتخابی وعدے کو بحال کرنے کی وائٹ ہاؤس کی تازہ ترین کوشش ہے جو فروری میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی 10 سے 50 فیصد تک کی ان ’جوابی‘ ڈیوٹیاں کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد کی گئی ہے، جنہیں امریکی تجارتی خسارے کو کم کرنے کی کوشش میں گذشتہ سال قومی ہنگامی قانون کے تحت عائد کیا گیا تھا۔ 

جمعرات کو فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے اعلان کیے گئے نئے محصولات امریکہ کی 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے۔ تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیا سمیت کئی مصنوعات کو ان محصولات سے چھوٹ دی گئی ہے۔

نئے محصولات 1974 کے تجارتی قانون کی دفعہ 301 کے تحت عائد کیے گئے ہیں۔ ان کی بدولت امریکی انتظامیہ سپریم کورٹ میں ناکامی کے باوجود تقریباًً تمام امریکی درآمدات پر کم از کم محصول برقرار رکھ سکے گی۔

ان محصولات کو فروری میں ختم ہونے والے محصولات کے مقابلے میں قانونی اعتراضات کا خطرہ بھی کم ہوگا، کیوں کہ دفعہ 301 اس سے پہلے عدالتوں میں کیے گئے اعتراضات کے باوجود برقرار رہی ہے۔

ٹرمپ کا دنیا بھر کی اشیا پر عائد عارضی 10 فیصد محصول 150 دن بعد جمعے کو ایسٹرن ڈے لائٹ ٹائم (ای ڈی ٹی) وقت کے مطابق رات 12 بج کر ایک منٹ اور عالمی وقت کے مطابق صبح چار بج کر ایک منٹ پر ختم ہوگیا۔ نئے محصولات عین اسی وقت نافذ ہوگئے، تاہم پہلے سے راستے میں موجود اشیا کو 28 جولائی کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق رات 12 بج کر ایک منٹ تک ان سے چھوٹ دی گئی ہے۔

امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ ’امریکہ میں تقریباًً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی ہے اور امریکہ اس پابندی پر سختی سے عمل کرتا ہے۔

’اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے تجارتی شراکت دار بھی ایسا ہی کریں۔ آج کا اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور تجارت میں بگاڑ پیدا کرنے والے اس طریقے کی اصلاح کا آغاز کرے گا، تاکہ دنیا بھر کے کارکنوں کی فلاح بہتر بنائی جا سکے۔‘

جیمی سن گریئر پہلے کہہ چکے ہیں کہ جن ممالک نے واشنگٹن کے ساتھ ایسے تجارتی معاہدے کیے ہیں جن میں امریکی محصولات کی زیادہ سے زیادہ شرح طے کی گئی ہے، جبری مشقت سے متعلق نئے محصولات کے بعد بھی ان کی مجموعی شرح مقررہ حد سے زیادہ نہیں ہوگی۔

امریکہ نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، انڈیا، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینی ڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد محصول عائد کیا ہے۔

یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کے لیے محصولات کی ایسی شرحیں مقرر کی گئیں جو پہلے سے عائد پسندیدہ ترین ملک کے محصولات کے ساتھ ملا کر مجموعی طور پر 10 فیصد یا 12.5 فیصد بنتی ہیں۔

باقی 38 ممالک کے لیے 12.5 فیصد محصول مقرر کیا گیا ہے۔ ان میں ویت نام بھی شامل ہے، جس نے رواں ہفتے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا۔ اس حکم نامے میں جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر پابندی کے مزید تفصیلی اصول طے کیے گئے ہیں۔ چین بھی ان ممالک میں شامل ہے۔ امریکہ چین پر اویغور اقلیت کے افراد کو مشقتی کیمپوں میں قید رکھنے کا الزام لگاتا ہے، تاہم بیجنگ اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے اپنے چینی ہم منصبوں کو بتایا ہے کہ وہ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت میں چینی اشیا پر عائد محصولات دوبارہ بڑھا کر 20 فیصد تک لے جانا چاہتے ہیں۔

اس شرح پر نومبر 2025 میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ تجارتی جنگ بندی کے معاہدے میں اتفاق ہوا تھا، تاہم محصولات 20 فیصد سے زیادہ نہیں بڑھائے جائیں گے۔

جمعے کے اقدام سے پہلے چینی اشیا پر محصول کم ہو کر 10 فیصد رہ گیا تھا۔ اس میں ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران صنعتی اشیا پر عائد 25 فیصد محصول شامل نہیں۔

ممالک کا احتجاج

اس اقدام پر بعض تجارتی شراکت داروں نے فوری احتجاج کیا۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ یورپی یونین کے لیے نئے محصولات ایک بڑا دھچکہ ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے پیش کی گئی وجہ سمجھ سے باہر ہے۔

انہوں نے منیلا میں آسیان اجلاسوں کے موقعے پر کہا کہ ’اگر آپ ہمارے محنت قوانین کا امریکہ کے قوانین سے موازنہ کریں تو ہمارے ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں ملتی ہیں اور ان کے لیے کام کے حالات بھی بہت اچھے ہیں، اس لیے یہ الزام حقیقت پر مبنی نہیں۔‘

آسٹریلیا اور برازیل نے نئے محصولات کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے، جبکہ ناروے نے کہا کہ ان محصولات کی ’کوئی بنیاد نہیں۔‘

کینیڈا نے ان ’یک طرفہ‘ محصولات پر محتاط ردعمل دیا۔ کینیڈا کی 20 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر پیر کو ٹرمپ کے نئے محصولات عائد کیے گئے تھے۔

امریکہ کے ساتھ تجارت کے امور کے ذمہ دار کینیڈا کے وزیر ڈومینک لوبلان کا کہنا تھا کہ ’ہم اس معاملے اور دیگر حل طلب مسائل پر آنے والے ہفتوں میں امریکہ کے ساتھ تعمیری بات چیت جاری رکھیں گے، تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کو فائدہ ہو۔‘

ٹرمپ کی پہلی مدت میں وائٹ ہاؤس کی تجارتی مشیر رہنے والی اور قانونی فرم ایکن گمپ اسٹراس ہاور اینڈ فیلڈ کی شراکت دار کیلی این شا نے کہا کہ نئے محصولات بڑی حد تک پہلے دیے گئے اشاروں کے مطابق ہیں، تاہم ان میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں میں تقریباً 471 مصنوعات کو محصولات سے مستثنیٰ اشیا کی فہرست میں شامل کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ معاشی اثرات کے لحاظ سے صورت حال زیادہ تر پہلے جیسی ہی رہے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق یورپی یونین سمیت بعض تجارتی شراکت داروں نے محصولات کی زیادہ سے زیادہ حد طے کرا لی تھی، اس لیے ان پر عائد نئے محصولات کی شرح گذشتہ معاہدے کے تحت عائد شرح سے کم ہوگی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلی عہدے دار نے اس بات سے اختلاف کیا کہ نئے محصولات محض ختم ہونے والے محصولات کی جگہ لینے کے لیے عائد کیے گئے ہیں، اگرچہ ان کے نفاذ کا وقت، شرحیں اور تقریباً تمام امریکی درآمدات پر ان کا اطلاق ایک جیسا ہے۔

عہدے دار نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر دوسرے تمام ممالک کے مقابلے میں زیادہ سخت پابندیاں ہیں اور ان پر بھی زیادہ سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔ اس صورت حال سے امریکہ کے حریفوں کو تجارت میں امریکہ پر ناجائز برتری حاصل ہوتی ہے۔

عہدے دار نے کہا کہ کانگریس میں ڈیموکریٹک اور رپبلکن دونوں جماعتوں کے ارکان دنیا بھر میں اشیا کی تیاری اور ترسیل کے نظام سے جبری مشقت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، ’اس لیے ہم حقیقت میں اسی مطالبے پر عمل کر رہے ہیں۔‘

تجارتی امور کے وکیل اور محکمہ تجارت کے سابق عہدے دار ریان ماجیرس نے کہا کہ نئے محصولات کو عدالت میں چیلنج کرنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے، کیوں کہ دفعہ 301 اس سے پہلے قانونی اعتراضات کے باوجود برقرار رہی ہے اور بعض جج جبری مشقت روکنے کے اقدامات پر حکم امتناع جاری کرنے سے گریز کرسکتے ہیں۔

قانونی فرم کنگ اینڈ سپالڈنگ کے شراکت دار ماجیرس نے کہا کہ ’دفعہ 301 کے تحت محصولات عائد ہونے کے بعد انتظامیہ کو ان میں تبدیلی کی بہت زیادہ آزادی مل جاتی ہے۔ یہ ایک نہایت سخت قدم ہے۔ اس کا مقصد 10 فیصد کی بنیادی شرح برقرار رکھنا بھی ہے اور انتظامیہ کا خیال ہے کہ عدالت میں معاملہ جانے کی صورت میں اسے مضبوط قانونی تحفظ حاصل ہوگا۔‘

عہدے دار نے کہا کہ تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیا سمیت کئی مصنوعات کو ان محصولات سے چھوٹ دی جائے گی۔ دفعہ 232 کے تحت قومی سکیورٹی سے متعلق محصولات کی زد میں پہلے سے آنے والی اشیا، مثلا گاڑیاں، فولاد، ایلومینیم اور تانبا بھی ان سے مستثنی ہوں گے۔ طیاروں، ان کے پرزوں اور اہم معدنیات کو بھی چھوٹ دی جائے گی۔

امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے تجارتی معاہدے کی شرائط پوری کرنے والی دیگر اشیا کو بھی ان محصولات سے چھوٹ ملے گی، کیوں کہ شمالی امریکہ میں اشیا کی تیاری اور ترسیل کا نظام ایک دوسرے سے بہت زیادہ جڑا ہوا ہے اور ان مصنوعات میں امریکی مواد کی مقدار بھی زیادہ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت