’مودی نے ملک بیچ دیا:‘ ٹیرف معاہدے پر انڈیا میں کڑی تنقید

امریکہ انڈیا کا نیا تجارتی معاہدہ انڈیا میں شدید تنقید کا نشانہ بن گیا ہے، اور حزب اختلاف، سیاسی تجزیہ کار، معاشی ماہرین اسے آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔

انڈین قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے منگل کو گذشتہ رات اعلان کردہ انڈیا امریکہ تجارتی معاہدے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی نے انڈیا کے مفادات پر سمجھوتہ کر لیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو فروری کو انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد ایک تجارتی معاہدے کا اعلان کیا جس میں انڈین سامان پر امریکی ٹیرف 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا۔ لیکن یہ معاہدہ انڈیا میں شدید تنقید کا نشانہ بن گیا ہے، خاص طور پر حزب اختلاف، سیاسی تجزیہ کار اور معاشی ماہرین اسے آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔

راہل گاندھی نے لوک سبھا سے واک آؤٹ کرنے کے بعد پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’نریندر مودی جی نے اس تجارتی معاہدے میں آپ کی محنت بیچ دی ہے کیونکہ وہ سمجھوتہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے ملک بیچ دیا ہے۔‘

گذشتہ سال جون میں امریکہ نے انڈیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا جبکہ اگست میں روسی تیل کی خریداری کے باعث مزید 25 فیصد اضافی ٹیکس لگا دیا گیا تھا، جس کے بعد مجموعی شرح 50 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ انڈیا امریکی مصنوعات پر درآمدی ٹیکس کم کرکے صفر تک لانے پر بھی آمادہ ہو گیا ہے اور مستقبل میں 500 ارب ڈالر مالیت کی امریکی مصنوعات بھی خریدے گا۔

صدر ٹرمپ نے یہ اعلان انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلیفونک رابطے کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کیا۔

منگل کو اس معاملے پر جب راہل گاندھی نے تقریر کی تو لوک سبھا میں بی جے پی کی قیادت میں این ڈی اے کے اراکین نے ان کی تقریر میں خلل ڈالا جس کے نتیجے میں اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔

اس سے قبل کانگریس پارٹی نے ایک بیان میں کہا، ’جس طرح جنگ بندی کا اعلان ہوا، تجارتی معاہدے کا اعلان بھی امریکی صدر ٹرمپ نے کیا۔ کہا گیا ہے کہ تجارتی معاہدہ ’مودی کی درخواست پر‘ کیا جا رہا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انڈیا امریکہ کے خلاف ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کو صفر تک کم کرنے کے لیے آگے بڑھے گا۔‘

پارٹی نے مطالبہ کیا: ’انڈیا کو تجارتی معاہدے کی تفصیلات جاننے کا حق ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کانگریس کے جنرل سیکریٹری جیرام رمیش نے بھی اس معاہدے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم مودی نے ’مکمل طور پر ہتھیار ڈال دیے ہیں۔‘

رمیش نے ایکس پر لکھا، ’ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ نے آج ایک دوسرے سے بات کی۔ یہ معلومات انڈین فریق کی طرف سے نہیں بلکہ امریکی سفیر برائے انڈیا کی طرف سے فراہم کی گئی ہیں۔ اب یہ معمول بن گیا ہے، انڈیا کو اپنی حکومت کی کارروائیوں کا علم صرف صدر ٹرمپ یا ان کے نامزد افراد سے ہوتا ہے۔ ٹرمپ نربھرتا (ٹرمپ پر انحصار)۔‘

انہوں نے ایک اور پوسٹ میں طنزیہ انداز میں کہا، ’انہوں نے آپریشن سندور روکنے کا اعلان واشنگٹن ڈی سی سے کیا۔ انہوں نے انڈیا کی روس اور وینزویلا سے تیل کی خریداری کے بارے میں اپ ڈیٹ واشنگٹن سے دی۔ اب انہوں نے انڈیا امریکہ تجارتی معاہدے کا اعلان بھی واشنگٹن سے کیا ہے، جس کی مکمل تفصیلات کا انتظار ہے۔ صدر ٹرمپ کو واضح طور پر لیوریج حاصل ہے۔‘

رمیش نے مزید کہا، ’یقیناً یہ ’فادر آف آل ڈیلز‘ (تمام معاہدوں کا باپ) نہیں ہو سکتا۔ واشنگٹن میں، واضح طور پر موگامبو خوش ہے۔‘

کانگریس ایم پی کے سی وینوگوپال نے لوک سبھا میں تحریک التوا پیش کی اور الزام لگایا، ’امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ تجارتی معاہدہ انڈیا کے محترم وزیراعظم کی درخواست پر طے پایا اور مزید کہا کہ انڈیا نے ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کو صفر تک کم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے مؤثر طریقے سے انڈین منڈیاں امریکی سامان کے لیے کھل جائیں گی۔‘

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس معاہدے کے ’انڈین صنعتوں اور کسانوں کے لیے منفی نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ معاہدہ ’انڈین کسانوں کے ساتھ دھوکہ‘ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی امریکی زرعی مصنوعات کے لیے بازار کھول رہی ہے اور ملک کی کھیتی باڑی کو تباہ کر رہی ہے۔ یادو نے کہا کہ 70 فیصد آبادی کھیتی پر منحصر ہے۔

امریکی ماہرین اور تجزیہ کاروں کی تنقید

اروند سبرامنیم، جو پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس میں سینیئر فیلو ہیں اور انڈیا کے سابق چیف اکنامک ایڈوائزر ہیں، نے کہا، ’جب تیل کی قیمتیں زیادہ تھیں، تو فائدہ تھا۔ لیکن تیل کی قیمتوں میں کمی کے ساتھ اب فائدہ اتنا اہم نہیں ہے۔ اگر آپ اس حساب میں یہ بات شامل کریں کہ انڈین برآمد کنندگان ٹرمپ ٹیرف سے نقصان اٹھا رہے تھے، تو روسی تیل خریدنا بند کرنا آسان ہو گیا۔‘

کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے ماہر معاشیات سکاٹ لنسیکوم نے کہا: ’انڈیا نے مہینوں سے ان تجارتی مذاکرات کو سست روی سے چلایا ہے، اور یہاں شرائط اتنی مبہم ہیں کہ یہ کسی بھی چیز سے متعلق ہو سکتی ہیں، بڑی سے لے کر ’کچھ نہیں‘ تک۔‘

ماہرین نے معاہدے کی مبہم تفصیلات اور زرعی شعبے پر ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ معاہدہ واقعی انڈین معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا یا مزید پیچیدگیاں پیدا کرے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا