بلوچستان حملوں میں خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ’گھناؤنا‘ اور ’غیر انسانی حربہ‘: قومی اسمبلی قرارداد

قرارداد میں لکھا گیا ہے کہ عسکریت پسند ’خواتین کے استحصال، زبردستی، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے انہیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

عسکریت پسندوں کے حملوں کے بعد یکم فروری 2026 کو کوئٹہ کے مضافات میں ایک سڑک کے کنارے جلی ہوئی گاڑی کے پاس لوگ جمع ہیں: (اے ایف پی)

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں منگل کو بلوچستان میں حالیہ حملوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی، جس میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی اور حملوں میں خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ’گھناؤنا‘ اور ’غیر انسانی حربہ‘ قرار دیا گیا۔

قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔

اختتام ہفتہ بلوچستان کے متعدد مقامات پر ’مربوط‘ حملوں کیے گئے جن میں  17 سکیورٹی اہلکار، 31 عام شہری، اور ڈیڑھ سو کے قریب عسکریت پسند مارے گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کم از کم دو خواتین عسکریت پسند بھی شامل تھیں۔ 

قرارداد میں کہا گیا ہے ’یہ ایوان بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے جن میں نہ صرف معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا اور بلکہ خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے جیسے گھناؤنے اور غیر انسانی حربے اپنائے گئے۔

’یہ ایوان اس امر پر گہرے رنج و غم اور تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ دہشت گرد نیٹ ورکس خواتین کے استحصال، زبردستی، ذہنی دباؤ اور بلیک میلنگ کے ذریعے انہیں ریاست اور معاشرے کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اسلامی، پاکستانی، اور بلوچ اقدار کے سراسر منافی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’یہ ایوان سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، صوبائی حکومت بلوچستان، اور سول انتظامیہ کے بروقت اور مؤثر اقدامات کو سراہتا ہے اور شہدا و زخمیوں کے اہل خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

’یہ ایوان واضح کرتا ہے کہ شہری آبادی، خواتین اور بچوں پر حملے ناقابلِ معافی جرائم ہیں، اور ریاست ایسے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کے اصول پر فیصلہ کن کارروائی کرے۔

’یہ ایوان اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ متعدد واقعات میں دستیاب قرائن بیرونی سرپرستی کی جانب اشارہ کرتے ہیں، بالخصوص ہندوستان کے کردار کے حوالے سے سنجیدہ خدشات موجود ہیں، جبکہ بعض ہمسایہ ممالک میں لاجسٹک اور آپریشنل سہولت کاری، مالی معاونت، تربیت، علاج، نقل و حرکت اور پروپیگنڈا نیٹ ورکس کے ذریعے دہشت گردی کو تقویت دی جاتی ہے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان