پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو ایوان بالا یعنی سینیٹ کو بتایا ہے کہ سال 2025 میں تقریباً 73 ہزار افراد کو بیرون ملک پرواز کرنے سے قبل آف لوڈ کیا گیا جن میں تقریباً 45 ہزار افراد کو تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر جبکہ 28 ہزار کے قریب افراد کو دیگر وجوہات کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا۔
سینیٹ میں وزیر داخلہ کی جانب سے جمع کروائے گئے دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گذشتہ تین برس میں کل ایک لاکھ 47 ہزار 842 افراد کو جہاز سے اتارا جا چکا ہے۔ ان تین سالوں میں آف لوڈ کیے جانے والے افراد کی تعداد سال 2025 میں سب سے زیادہ رہی۔
سال 2023 میں مجموعی طور پر 35 ہزار 270 افراد کو آف لوڈ کیا گیا جبکہ 2024 میں یہ تعداد 39 ہزار 214 رہی۔ گذشتہ برس 73 ہزار 358 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا۔
اسی طرح جعلی دستاویزات پر مسافروں کی امیگریشن میں ملوث پائے جانے والے ایف آئی اے کے ملازمین میں سے بیشتر کا تعلق سیالکوٹ ائیر پورٹ سے ہے۔ 23 میں سے 17 سرکاری افسران جعلی دستاویزات پر مسافروں کی امیگریشن میں ملوث پائے گئے۔ جبکہ تین افسران کا تعلق ملتان ائیر پورٹ، دو کا پشاور ائیرپورٹ اور ایک کا تعلق لاہور ائیرپورٹ سے تھا۔
ایف آئی اے کے مطابق مسافروں کو آف لوڈ کرنے کا عمل اچانک یا غیر متوقع نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایک باقاعدہ اور منظم نظام موجود ہے۔ ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز میں قائم Risk Analysis Unit مسلسل سفری رجحانات، انسانی سمگلنگ اور ٹریفکنگ سے متعلق ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے۔
یہ معلومات اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیلز سے مکمل جانچ اور تصدیق کے بعد حاصل کی جاتی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر داخلہ نے مزید کہا ہے کہ ہائی رسک مسافروں کو آف لوڈ کرنے کے لیے Refusal of departure rules تیار کیے گئے ہیں جو وزارت داخلہ کو منظوری کے لیے بھیجے جا چکے ہیں اور اس وقت زیر غور ہیں۔
سال 2025 میں تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر مجموعی طور پر 24 ہزار 221 مسافروں کو آف لوڈ کیا گیا۔ ان وجوہات میں پرواز کی منسوخی، مسافر کا خود آف لوڈ ہونا، پرواز میں فنی خرابی، ایئرلائن کی جانب سے آف لوڈ کرنا، خراب موسم، پرواز میں تاخیر یا ایئرلائن کی درخواست پر پرواز منسوخ ہونا شامل ہے۔
اسی طرح گذشتہ برس جنرل آف لوڈ کے تحت 203 افراد کو آف لوڈ کیا گیا، جبکہ تقریباً 17 ہزار خود آف لوڈ ہوئے۔ تقریباً تین ہزار افراد بلیک لسٹ تھے اس لیے انہیں آف لوڈ کیا گیا۔ جبکہ تقریباً ساڑھے تین ہزار افراد کے پاس مکمل دستاویزات نہیں تھے۔
اس کے علاوہ کچھ کیسز میں مسافروں کو بیماری، دستویزات پر مختلف نام ہونا، اے این ایف یا کسٹمز کی جانب سے آف لوڈ کیے جانے، مشتبہ دستاویزات، دورہ کا مقصد واضح نہ ہونے، کم عمر ہونے، والدین کے بغیر سفر، یا پہلے ہی ڈیپورٹ ہونے جیسے عوامل کی بنیاد پر آف لوڈ کیا گیا۔