اسلامی فوجی اتحاد برائے انسداد دہشت گردی (آئی ایم سی ٹی سی) کے 17 رکنی وفد نے پاکستان کا ایک ہفتے پر محیط دورہ شروع کر دیا ہے جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں اور تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
آئی ایم سی ٹی سی 43 ممالک پر مشتمل ایک فوجی اتحاد ہے جو دسمبر 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم کیا گیا تھا تاکہ مسلم ممالک کی دہشت گردی کے خلاف کوششوں کو یکجا کیا جا سکے۔ اس اتحاد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی، افغانستان، مصر، اردن، قطر، فلسطین، متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش اور دیگر مسلم ممالک شامل ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق: ’ آئی ایم سی ٹی سی وفد کے اس دورے کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششوں اور تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ وفد کا یہ دورہ دہشت گردی کے خلاف اسلامی دنیا کے مضبوط اتحاد کی علامت ہے۔‘
رپورٹ کے مطابق آئی ایم سی ٹی سی کے وفد کی قیادت سیکریٹری جنرل محمد بن سعید المغیدی کریں گے اور دورے کے دوران دہشت گردی کے انسداد سے متعلق ایک خصوصی تربیتی پروگرام کا بھی آغاز کیا جائے گا۔
پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کو 2017 میں آئی ایم سی ٹی سی کا کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا تھا۔
پاکستان کے دنیا بھر کے بیشتر مسلم ممالک، بالخصوص خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط دفاعی شراکت داری ستمبر 2025 کو ایک نئے عروج پر پہنچ گئی جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے ریاض میں سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔
اس معاہدے میں اعلان کیا گیا کہ ’کسی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت سمجھا جائے گا۔‘
یہ دفاعی معاہدہ اجتماعی ان سکیورٹی انتظامات کی عکاسی کرتا ہے جو روایتی طور پر نیٹو اور خلیجی تعاون کونسل جیسے علاقائی اتحادوں سے وابستہ ہیں اور جن کا مقصد ممکنہ جارحیت کرنے والوں کو روکنا ہوتا ہے۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ معاہدہ ’دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی بڑھانے، خطے اور دنیا میں امن و سلامتی کے حصول کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کے پہلوؤں کو فروغ دینے اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانے کا ہدف رکھتا ہے۔‘