پاکستان نے بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت قبول کرتے ہوئے غزہ کے لے تشکیل دیے جانے والے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے فریم ورک کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ میں معاونت کی پاکستان کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 18 جنوری کو غزہ کے لیے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں وزیر اعظم شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’پاکستان کے وزیر اعظم کو امریکی صدر کی غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ کی تشکیل کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
یہ منصوبہ اسرائیلی بمباری کے دو سال بعد تباہ حال غزہ میں امن کے قیام کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ نے بدھ کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ کی دعوت قبول کرتے ہوئے ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق ’پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے قیام کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی کے نفاذ، فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافے، اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹھوس اور عملی اقدامات کیے جائیں گے۔
’پاکستان یہ امید بھی رکھتا ہے کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے حصول کا باعث بنیں گی، ایک ایسے قابلِ اعتماد اور وقت کے تعین شدہ سیاسی عمل کے ذریعے جو بین الاقوامی قانونی حیثیت اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہم آہنگ ہو، اور جس کے نتیجے میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خود مختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان، بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے، ان اہداف کے حصول اور اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی تکالیف کے خاتمے کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کا منتظر ہے۔‘