پاکستان کے دفتر خارجہ نے اتوار کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں وزیر اعظم شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق ’پاکستان کے وزیر اعظم کو امریکی صدر کی غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کا دیرپا حل ممکن بنایا جا سکے۔‘
PR No.
Press Remarks by the Spokesperson https://t.co/loyy8yv0aR
pic.twitter.com/9SetjLwP1V
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) January 18, 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت ’بورڈ آف پیس‘ کی تشکیل کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
یہ منصوبہ اسرائیلی بمباری کے دو سال بعد تباہ حال غزہ میں امن کے قیام کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
دوسری جانب بلومبرگ نیوز نے اتوار کو ایک مسودہ چارٹر کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’ٹرمپ انتظامیہ بورڈ کی رکنیت کے لیے ممالک سے ایک ارب ڈالر کی فیس لینے پر غور کر رہی ہے۔‘
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’صدر ٹرمپ اس بورڈ کے پہلے چیئرمین ہوں گے اور ہر رکن ملک کی مدت رکنیت زیادہ سے زیادہ تین سال ہو گی، جس میں توسیع کا اختیار چیئرمین کے پاس ہو گا۔‘
تاہم روئٹرز اس رپورٹ کی فوری طور پر تصدیق نہ کر سکا۔
وائٹ ہاؤس نے البتہ اس رپورٹ کو ’گمراہ کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بورڈ میں شامل ہونے کے لیے کسی قسم کی کم از کم رکنیت فیس مقرر نہیں کی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وائٹ ہاؤس کے مطابق ’یہ بورڈ ان شراکت دار ممالک کو مستقل رکنیت کی پیشکش ہے جو امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے گہری وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘
امریکی محکمہ خارجہ نے بھی روئٹرز کے سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ اور ان کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کی سابقہ سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ دیا، جن میں کسی رقم کا ذکر موجود نہیں تھا۔
یہ بورڈ غزہ میں عارضی حکمرانی کی نگرانی کرے گا، جہاں گذشتہ اکتوبر سے فائر بندی قائم ہے۔
وائٹ ہاؤس نے جمعے کو ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل رہنماؤں میں سے بعض کے نام جاری کیے تھے، جو غزہ میں آئندہ اقدامات کی نگرانی میں کردار ادا کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ ناموں کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں جبکہ ٹرمپ بورڈ کے چیئرمین ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بورڈ میں پرائیویٹ ایکویٹی ایگزیکٹیو اور ارب پتی مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور ٹرمپ کے مشیر رابرٹ گیبریل بھی شامل ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے سابق مشرق وسطیٰ کے ایلچی نکولے ملادی نوف غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے کا کردار ادا کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے بیان میں ان ارکان کی ذمہ داریوں کی وضاحت نہیں کی گئی۔