بلومبرگ نیوز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ کے منشور کے مسودے کے حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ مختلف ممالک بورڈ میں شامل رہنے کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کریں۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن بورڈ کے پہلے چیئرمین ہوں گے اور ہر رکن ملک کی مدت اس کے چارٹر کے نافذ ہونے کے بعد سے تین سال سے زیادہ نہیں ہوگی، جس کی تجدید چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوگی۔
خبر رساں ادارہ روئٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ کو ’گمراہ کن‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کے لیے کوئی کم از کم رکنیت فیس مقرر نہیں ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وائٹ ہاؤس نے ایکس پر کہا: ’یہ صرف ان شراکت دار ممالک کو مستقل رکنیت کی پیشکش ہے جو امن، سکیورٹی اور خوشحالی کے لیے گہری وابستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘
امریکی محکمہ خارجہ نے اس معاملے پر روئٹرز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ٹرمپ اور ان کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کی جانب سے بورڈ کے بارے میں کی گئی گذشتہ سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ دیا، جن میں اس رقم کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
یہ بورڈ غزہ میں عارضی حکمرانی کی نگرانی کرے گا جہاں گذشتہ اکتوبر سے فائر بندی قائم ہے۔
وائٹ ہاؤس نے جمعے کو ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل رہنماؤں میں سے بعض کے نام جاری کیے تھے، جو غزہ میں آئندہ اقدامات کی نگرانی میں کردار ادا کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ناموں کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں جبکہ ٹرمپ بورڈ کے چیئرمین ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ بورڈ میں پرائیویٹ ایکویٹی ایگزیکٹیو اور ارب پتی مارک روون، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور ٹرمپ کے مشیر رابرٹ گیبریل بھی شامل ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے سابق مشرق وسطیٰ کے ایلچی نکولے ملادی نوف غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے کا کردار ادا کریں گے۔ وائٹ ہاؤس کے بیان میں ان ارکان کی ذمہ داریوں کی وضاحت نہیں کی گئی۔
گذشتہ روز رپورٹ سامنے آئی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترک صدر رجب طیب اردوغان اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو غزہ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔