غزہ کی پٹی کے انتظامی امور سنبھالنے والے علی شعث کون ہیں؟

ان کا تعلق جنوبی غزہ کے شہر خان یونس سے ہے اور وہ بنیادی طور پر سول انجینئرنگ اور شہری انفراسٹرکچر کے ماہر ہیں۔ اسی تجربے کے لیے ان کا انتخاب کیا گیا ہے۔

علی شعث، فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی برائے غزہ پٹی کے عہدیدار، 15 جنوری 2026 کو قاہرہ میں ایک فلسطینی خاندان سے تعزیت کر رہے ہیں (اے ایف پی)

علی شعث فلسطيني سرکاری عہددار اور انجینئر ہیں جنہیں غزہ کی پٹی کے انتظامی امور سنبھالنے والی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کا سربراہ نامزد کیا گیا ہے۔

ان کا تعلق جنوبی غزہ کے شہر خان یونس سے ہے اور وہ بنیادی طور پر سول انجینئرنگ اور شہری انفراسٹرکچر کے ماہر ہیں۔ اسی تجربے کے لیے شاید ان کا انتخاب کیا گیا ہے۔

علی شعث 1958 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قاہرہ کی یونیورسٹی سے سول انجینئرنگ میں بیچلر اور ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، اور بعد ازاں بیلفاسٹ میں کوینز یونیورسٹی سے انفراسٹرکچر پلاننگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔

فلسطینی اتھارٹی کے مختلف شعبوں میں انہوں نے ماضی میں اہم سرکاری عہدے سنبھالے، مثلاً وزارتِ منصوبہ بندی و بین الاقوامی تعاون کے نائب وزیر، وزارتِ ٹرانسپورٹ کے سیکریٹری، صنعتی شعبے کی قیادت اور مشاورت وغیرہ۔

نیا کردار

وہ غزہ پٹی کی اسرائیل کے ہاتھوں تباہی کے بعد ٹیکنوکریٹ انتظامی کمیٹی کے سربراہ ہیں، جسے مختلف ممالک کے ثالثی منصوبوں کے تحت غزہ کے انتظام اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

علی شعث سیاسی رہنما سے زیادہ تکنیکی اور انتظامی مہارت رکھنے والی شخصیت ہیں جنہیں خاص طور پر غزہ پٹی کے انتظام و ترقی کے چیلنجز سنبھالنے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

علی شعث کے منصوبہ میں غزہ کا ملبہ بحیرہ روم میں پھینکنا اور تین سال کے اندر تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو شامل ہے۔ وہ 15 فلسطینی ٹیکنوکریٹس کے ایک گروپ کی قیادت کریں گے جنہیں فلسطینی علاقے میں حکومت کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔

ان کی تقرری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کے منصوبے کے اگلے مرحلے کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

شعث کو اندازا 68 ملین ٹن ملبہ اور ان پھٹے گولہ بارود کو صاف کرنے جیسے چیلنج کا سامنا ہوگا، جبکہ اسرائیل اور حماس کی لڑائی اب بھی جاری ہے۔

ماضی میں بھی اسرائیل کے ساتھ جنگوں کے بعد، غزہ کے فلسطینیوں نے شہر کے مرینا اور دیگر منصوبوں کے لیے جنگی ملبے کو استعمال کیا۔

جمعرات کو ایک فلسطینی ریڈیو سٹیشن کو دیے گئے انٹرویو میں، شعث نے اسی طرح کا طریقہ تجویز کیا۔ ’اگر میں بلڈوزر لے کر ملبے کو سمندر میں دھکیل دوں، اور نئے جزیرے، نئی زمین بناؤں، تو میں غزہ کے لیے نئی زمین حاصل کرسکتا ہوں اور ساتھ ہی ملبہ بھی صاف کر سکتا ہوں۔‘ انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ ملبہ تین سال میں ہٹایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح فوری امداد فراہم کرنا ہے، جس میں بے گھر فلسطینیوں کے لیے عارضی رہائش کی فراہمی بھی شامل ہے۔ ان کی دوسری ترجیح ’ضروری اور اہم انفراسٹرکچر‘ کی بحالی ہوگی، جس کے بعد مکانات اور عمارتوں کی تعمیر نو ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ سات سال میں بنے گا اور پہلے سے بہتر ہو جائے گا۔‘

اقوام متحدہ کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، غزہ کے تباہ شدہ مکانات کی تعمیر نو کم از کم 2040 تک جاری رہے گی، لیکن کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

حماس اور عباس کی حمایت

شعث کی کمیٹی کی تشکیل کو حماس کی حمایت حاصل ہے، جو قاہرہ میں دیگر فلسطینی گروہوں کے ساتھ غزہ کے مستقبل پر مذاکرات کر رہا ہے۔ حماس کے سینئر عہدیدار باسم نعیم نے کہا کہ ’اب فیصلہ ثالثوں، امریکی ضامن اور بین الاقوامی برادری کے پاس ہے کہ کمیٹی کو بااختیار بنایا جائے۔‘

فلسطینی صدر محمود عباس نے، جن کا اختیار مغربی کنارے میں محدود اثر و رسوخ رکھتا ہے، کمیٹی کی حمایت ظاہر کی، جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ غزہ کو ’عبوری مراحل‘ سے گزارے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عباس نے جمعرات کو سرکاری وافا نیوز ایجنسی کو دیےایک بیان میں کہا، ’ہم فلسطینی اتھارٹی کے اداروں کو مغربی کنارے اور غزہ میں جوڑنے کی اہمیت کو دہراتے ہیں، اور انتظامی، قانونی اور سکیورٹی نظاموں کے قیام سے گریز کرتے ہیں جو دوہری پن اور تقسیم کو مضبوط کرتے ہیں۔‘

اسرائیل اور حماس نے اکتوبر میں ٹرمپ کے مرحلہ وار منصوبے پر اتفاق کیا، جس میں مکمل جنگ بندی، زندہ اور مردہ یرغمالیوں کا فلسطینی قیدیوں کے بدلے تبادلہ، اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی شامل تھی۔ یہ معاہدہ اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے خطرے میں ہے جن میں غزہ میں سینکڑوں افراد جان سے گئے۔

خیرمقدم

پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے غزہ پٹی کے انتظام کے لیے تشکیل دی گئی ’نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ (این سی اے جی) کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

یہ کمیٹی 14 جنوری 2026 کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت ایک عبوری انتظامی ڈھانچے کے طور پر قائم کی گئی ہے، جو جامع امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے اور فلسطینی اتھارٹی کے تعاون سے کام کرے گی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق کمیٹی کا قیام غزہ میں روزمرہ امور کے انتظام کو بہتر بنانے اور غرب اردن اور غزہ کے ادارہ جاتی و جغرافیائی ربط کو برقرار رکھنے کے لیے اہم قدم ہے۔

آٹھ ممالک وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ غزہ کی وحدت کو برقرار رکھنا اور اسے تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنا بنیادی اصول ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ