سعودی عرب کی خلیجی ممالک کے خلاف ’ایرانی جارحیت‘ کی مذمت

ریاض نے ریاستوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کے سنگین نتائج سے بھی خبردار کیا ہے۔

بحرین میں ایک امریکی اڈے پر 28 فروری 2026 کو حملے کی ویڈیو سے لی گئی تصاویر جس کی اے ایف پی ٹیموں کی طرف سے تصدیق کی گئی ہے (اے ایف پی)

سعودی عرب نے ہفتے کو ایران کی جانب سے مختلف خلیجی ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سعودی عرب متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر، کویت اور اردن کے خلاف ایران کی کھلی جارحیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اظہار کرتا ہے، اور کسی بھی اقدام کی حمایت میں اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

ریاض نے ریاستوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزی کے سنگین نتائج سے بھی خبردار کیا ہے۔

دوسری جانب منامہ میں بحرین کے نیشنل کمیونیکیشن سینٹر نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے ملک کو بیرونی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں اس کی حدود کے اندر واقع مقامات اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس نے ان کارروائیوں کو اس کی خودمختاری اور سلامتی کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بحرین کی حکومت نے واضح کیا کہ قومی سلامتی کے دفاع اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھانا اس کا مکمل حق ہے، اور اس ضمن میں اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھا جائے گا۔

اسی طرح قطر نے بھی ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے قطری سرزمین کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی، سلامتی اور جغرافیائی سالمیت پر براہِ راست حملہ اور خطے کے امن و استحکام کے لیے ناقابل قبول اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ قطر اس حملے کے جواب میں بین الاقوامی قانون کے تقاضوں کے مطابق اور جارحیت کی نوعیت کے تناسب سے اپنی خودمختاری کے دفاع اور قومی سلامتی و مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل