پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے جس میں پاکستان اور افغانستان کی سرحدی صورت حال سمیت علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
دفتر خارجہ سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسحٰق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ کو ’بلااشتعال افغان جارحیت پر پاکستان کے بھرپور جواب‘ سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ’آپریشن غضب للحق‘ کے تحت کامیاب کارروائیاں‘ کی ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے افغانستان کی جانب سے جمعرات کو کیے گئے ’بلااشتعال حملے کا فوری اور موثر‘ جواب دیا، جس میں حکام کے مطابق اب تک 133 کے قریب افغان اہلکار مارے گئے جبکہ دو پاکستانی فوجی جان سے گئے ہیں۔
ان جھڑپوں کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے ’کھلی جنگ‘ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ اور مختلف ممالک کا ردعمل
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ بینیٹ نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ وہ ایک بار پھر، پاکستان اور فغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پیش نظر، جو انتہائی افسوس ناک طور پر، پرتشدد ہو چکی ہے، دونوں ملکوں سے پرسکون رہنے اور بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین، خاص طور پر عام شہریوں کے تحفظ کے احترام پر زور دیتے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین نے جمعے کو کہا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان لڑائی پر ’انتہائی فکر مند‘ ہے، اور مزید کہا کہ بیجنگ فائر بندی پر زور دیتے ہوئے دونوں فریقوں سے بات چیت کر رہا ہے۔
چینی دفتر خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ چین ’دونوں فریقوں سے پرسکون رہنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے، جلد از جلد فائر بندی کرنے، اور مزید خونریزی سے بچنے کا مطالبہ کرتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ چینی وزارت خارجہ اور پاکستان اور افغانستان میں چین کے سفارت خانے اس معاملے پر ’دونوں ممالک میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنی ایکس پوسٹ میں پاکستان اور افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت اور اچھے پڑوسی کے اصولوں کے ذریعے اپنے اختلافات حل کریں۔
انہوں نے اس عمل کی حمایت کے لیے ایران کی آمادگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعمیری بات چیت کو آسان بنانے، باہمی افہام و تفہیم کو بڑھانے اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے کے مطابق روس کی وزارت خارجہ نے متحارب فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ سرحد پار حملے فوری طور پر روک دیں اور سفارتی ذرائع سے اپنے اختلافات طے کریں۔ روس نے یہ پیشکش بھی کی ہے کہ اگر دونوں فریق رضامند ہوں تو وہ ثالثی کر سکتا ہے۔
پاکستان میں آسٹریلوی ہائی کمیشن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر شیئر کیے گئے اپنے بیان میں ملک میں مقیم آسٹریلیا کے شہریوں سے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مشترکہ سرحدی علاقوں میں حالیہ فوجی کارروائی ملک بھر میں سکیورٹی کی مجموعی صورت حال کو متاثر کر سکتی ہے۔
بیان کے مطابق انتقامی دہشت گرد حملے کسی بھی جگہ اور بغیر کسی پیشگی انتباہ کے ہو سکتے ہیں۔ مختصر نوٹس پر ملک بھر میں معمولات زندگی میں تعطل آ سکتا ہے، جن میں نقل و حرکت پر پابندیاں، سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کی بندش، اور خاص طور پر مساجد اور چیک پوسٹوں کے ارد گرد سکیورٹی آپریشنز میں اضافہ شامل ہے۔
آسٹریلوی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ تازہ ترین صورت حال جاننے کے لیے مقامی میڈیا دیکھتے رہیں اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔